پشاور پاکستان کے نامور سکواش کھلاڑی جان شیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کھیلوں کے مقابلے منعقد کئے جائیں تاکہ پاکستانی کھلاڑیوں کو کھیلنے کے بہترین مواقع میسر آئیں اور ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کے دورے کے موقع پر کیا۔ جان شیر خان جنہوں نے آٹھ مرتبہ عالمی سکواش چیمپئن جیتی اور چھ بار برٹش اوپن جیتنے کا گراں قدر اعزاز حاصل کیا نے چائنہ ونڈو کی مختلف گیلریاں دیکھیں ، فرینڈ شپ وال پر دست خط کئے اورمہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کئے ۔ جان شیر خان کا کہنا تھا کہ چین نے کھیلوں کے میدان میں بھی قابل زکر ترقی کی ہے ۔چین میں کھیلوں کو صنعت کا درجہ حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ چین کھیلوں میں بھی ایک عالمی طاقت ہے۔ اس کی حیثیت نہ صرف اولمپکس اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں نمایاں ہے بلکہ چین نے کھیلوں کو سفارتکاری، ثقافت اور عوامی صحت کے فروغ کے لئے بھی استعمال کیاہے۔جان شیر خان کا کہنا تھا کہ چین نے 2008 بیجنگ اولمپکس اور 2022 سرمائی اولمپکس کی میزبانی کر کے دنیا کو اپنی کھیلوں کی صلاحیت اور تنظیمی طاقت دکھائی۔ چین اکثر اولمپک میڈل ٹیبل میں سرفہرست تین ممالک میں شامل ہوتا ہے۔ جان شیر خان نے کہا کہ کھیلوں کی ترقی چین کی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔ جس کے پیش نظر پاکستاان کی حکومت کو بھی کھیلوں کے شعبے میں چین کے تجربہ سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان کھیلوں کے زیادہ سے زیادہ مقابلوں کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں چین کے کوچز سے بھی فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اسکواش کی دنیا پر حکمرانی کرنے والے جان شیر خان جو ایک دہائی سے زیادہ عالمی درجہ بندی میں دنیا کے نمبر ون کھلاڑی رہے نے پشاور میں پاک چین دوستی مرکز کو پاک چین دوستی کا شاہکار قرار دیا ان کا کہنا تھا کہ جس طرح پاک چین دوستی لازوال ہے اسی طرح دونوں ملکوں کے عوام کی چاہت اور محبت بھی ناقابل فراموش ہے جو اس امر کی متقاضی ہے کہ اس دوستی کو مزید استحکام دینے کے لئے بھرپور اقدامات کئے جائیں۔ جان شیر خان نے پاک چین دوستی میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے پر چائنہ ونڈو کے منتظمین کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر چائنہ ونڈو کی جانب سے سابق عالمی چیمپئن کو چائنہ ونڈو کے دورے کی یادگار پیش کیگئی
