جاپانی ایوان نمائندگان کے انتخابات میں،سنائے تاکائیچی کی قیادت میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو قانون سازی کے عمل کو یکطرفہ طور پر آگے بڑھانے کی برتری حاصل ہو گئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اب جاپان تین خطرناک ا قدامات اٹھا رہا ہے۔
پہلا،”تین سلامتی دستاویزات” کو بتدریج کمزور کرنا ،دوسرا "آئینی ترامیم” کے ذریعے فوجی توسیع کو جائز بنانا ،اور تیسرا سب سے خطرناک قدم ہے جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے حصول کو نقطۂ آغاز بنا کر عسکری میدان میں جوہری توانائی کے استعمال کی راہ ہموار کرنا۔
ان تینوں اقدامات کا حتمی مقصد جنگِ عظیم دوم کے بعد قائم بین الاقوامی نظام کی پابندیوں سے نجات حاصل کرنا اور بیرونی محاذ پر حملہ کرنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کرنا،نیز علاقائی و عالمی جنگ جھیڑنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔
آئندہ عرصے میں جاپان کی پالیسی محض اندرونی سیاسی معاملہ نہیں رہے گی بلکہ اس کے ممکنہ اثرات چین سمیت پورے خطے اور عالمی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں،جس کے لیے خطے اور عالمی برادری کو ہوشیار رہنا چاہیئے۔
