پشاور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی نے کہا ہے کہ خیبر پختون خوا میں پندرہ مصنوعی ٹرف ہیں لیکن صرف تین کھلاڑی قومی ٹیم تک رسائی حاصل کر سکے ہیں اسی طرح صوبے کے دیگر صوبوں سے بھی کھلاڑیوں کی قومی ٹیم تک عدم رسائی انتہائی افسوس ناک ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر پختون خوا سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں اور منتظمین سے ایک ملاقات میں کیا۔ خیبر پختون خوا کے وفد کی قیادت اولمپئن رحیم خان نے کی۔ وفد میں سینئیر صحافی امجد عزیز ملک ، انٹرنیشنل کھلاڑی عبدالرؤف خان، شفقت اللہ، آرگنائزر طفیل خان، بشیر خان،مراد خان، اختر زیب اور نوید خان شامل تھے .محی الدین وانی نے کہا کہ انہوں نے ملک بھر میں مختلف اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ فوری طور پر ہاکی ٹیموں کی تشکیل کی جائے اور کھلاڑیوں کو ملازمتیں فراہم کی جائیں اس اقدام سے ہاکی کھیل کو دوبارہ عروج حاصل ہو گا اور کھلاڑی ایک بار پھر ہاکی کھیل کی جانب راغب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہاکی معاملات کو بہتری کی جانب لیجانے کے لئے منصفانہ اور شفاف اقدامات ان کی ترجیح ہیں ۔محی الدین وانی جو وفاقی بین الصوبائی رابطہ وزارت کے سیکرٹری بھی ہیں نے امید ظاہر کی کہ قومی ٹیم کے کھلاڑی ورلڈ کپ کوالی فائنگ راؤنڈ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک وقوم کا نام روشن کریں گے انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں میںصلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں تاہم قومی کھیل کو بام عروج تک پہنچانے کے لئے مخلصانہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وفد کے اراکین کو یقین دلایا کہ خیبر پختون خوا میں ان کے تحفظات دور کئے جائیں گے ۔پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر محی الدین وانی نے کہا کہ صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کی اولین ترجیح ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کے لئے ٹیم کی تیاریاں تھیں جس کے بعد اب وہ ملک بھر میں ہاکی معاملات کی جانب توجہ دیں گے اور جلد ہی ہاکی کھلاڑیوں اور شائقین کو اپنے قومی کھیل سے متعلق اچھی خبریں سننے کو ملیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختون خوا میں ہاکی معاملات سے متعلق وہ پہلے ہی آگاہ ہیں۔قبل ازیں اولمپئن رحیم خان نے پاکستان ہاکی دیڈریشن کے صدر کو صوبے میں ہاکی کھیل سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیااور انہیں دورہ پشاور کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔
