اپر کوہستان: داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (ڈی ایچ پی پی) نے گزشتہ ہفتے تعمیراتی کام میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے اُچار بی سرنگ کی کامیاب بریک تھرو مکمل کر لی، جس کے ساتھ ہی قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ۔01) کے متبادل راستے کے پیکیج کے تحت تمام سات سرنگوں کی تکمیل ہو گئی۔
اُچار بی سرنگ کی لمبائی 953 میٹر ہے اور اس کی بریک تھرو کی تصدیق موقع پر منعقدہ ایک تقریب کے دوران کی گئی، جس میں انجینئرز، تکنیکی عملے اور منصوبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء نے سرنگ کے دہانے پر کھڑے ہو کر کھدائی کی تکمیل کے حوالے سے بینر بھی آویزاں کیا۔ اس کے علاوہ اُچار اے سرنگ، جس کی لمبائی 673 میٹر ہے، بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع اپر کوہستان میں واقع یہ سرنگیں اُن اہم متبادل تعمیراتی کاموں کا حصہ ہیں جو داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے تحت بننے والے آبی ذخیرے سے متاثر ہونے والے قراقرم ہائی وے کے حصوں کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سرنگیں منصوبے کے فعال ہونے کے بعد علاقے میں رابطے کے تسلسل اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں۔
سائٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر میں انجینئرز اور مزدوروں کو حفاظتی ہیلمٹ اور سیفٹی گیئر پہنے نئی کھودی گئی سرنگ کے داخلی راستے پر کھڑے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اطراف میں چٹانی پہاڑی ڈھلوانیں اور مضبوط بنائے گئے پشتے نمایاں ہیں۔ سرنگ کے دہانے پر کنکریٹ سے تیار کردہ سپورٹ ڈھانچے بھی موجود ہیں، جو پیچیدہ ارضیاتی حالات میں استحکام اور حفاظت کے لیے اختیار کیے گئے انجینئرنگ اقدامات کی عکاسی کرتے ہیں۔
تعمیراتی کام چائنہ سول انجینئرنگ کنسٹرکشن کارپوریشن کی جانب سے پاکستان کی واپڈا کے تعاون سے انجام دیا جا رہا ہے۔
ادھر جمعہ کے روز واپڈا نے داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے ذریعے اپر کوہستان میں بجلی کی فراہمی کے منصوبوں کو تیز کرنے کے لیے تقریباً 20 کروڑ روپے جاری کیے۔
یہ رقم ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کو فراہم کی گئی ہے، جو پہلے پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے نام سے جانی جاتی تھی، تاکہ داسو کی چار تحصیلوں میں بجلی کی فراہمی کے منصوبے مکمل کیے جا سکیں۔
واپڈا کے مطابق اس منصوبے میں ترسیلی لائنوں کی توسیع، ٹرانسفارمرز کی تنصیب اور تقسیم کے نیٹ ورک کی ترقی شامل ہے، جس کا مقصد دور دراز علاقوں تک بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
ترسیلی نیٹ ورک کی تکمیل آخری مراحل میں ہے جبکہ تقسیم کا بنیادی ڈھانچہ مکمل ہوتے ہی بجلی کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ اس اقدام سے توقع ہے کہ اپر کوہستان میں معیارِ زندگی بہتر ہوگا، معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی
