پشاور: زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے دورہ چین کو انتہائی کامیاب اور پاکستان کے مستقبل کے لئے انتہائی فائدہ مند قرار دیا ہے اور یہ یقین ظاہر کیا ہے کہ صدر شی جنگ سے حوصلہ افزاء ملاقات کے بعد سی پیک کا دوسرا مرحلہ نہ صرف جلد شروع ہو گا بلکہ اس کی رفتار بھی تیز ہو گی۔ مقررین چائنہ ونڈو کے زیر اہتمام ایک سیمینار سے خطاب کر رہے تھے جو یونی ورسٹی آف ہری پور میں منعقد ہوا۔سیمینار کا موضوع وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ چین اور سی پیک کا دوسرا مرحلہ تھا۔ وفاق ایوان ہائے صنعت و تجات (ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر عون علی سید نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ صرف ایک سڑک، ریلوے یا توانائی کا پراجیکٹ نہیں بلکہ ایک نیا وژن ہے، جو پاکستان کو ترقی، روزگار اور خوشحالی کی راہوں پر گامزن کر رہا ہے۔کاروباری برادری اس منصوبے کو ایک سنہری موقع سمجھتی ہے۔ کیونکہ سی پیک نے جہاں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا ہے وہیں سرمایہ کاری اور تجارت کے نئے دروازے بھی کھولے ہیں۔ اس منصوبے کی بدولت پاکستان آج عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے لئے زیادہ پرکشش بنتا جا رہا ہے۔ سی پیک کے پہلے مرحلے میں توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہوئی۔ پاکستان میں ہزاروں میگاواٹ بجلی شامل ہوئی جس سے صنعتوں کو استحکام ملا۔ اس کے ساتھ ساتھ موٹرویز اور سڑکوں کے جال نے شمالی علاقوں سے کراچی اور گوادر تک رسائی کو آسان بنایا۔یہ وہ اقدامات ہیں جن سے کاروباری لاگت کم ہوئی، لاجسٹکس بہتر ہوئے اور برآمدی صنعتوں کو نئی توانائی ملی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر یہ ترقی نہ ہوتی تو ہماری کئی صنعتیں بند ہو جاتیں۔ عوان علی سید نے کہا کہ یہاں وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کے حالیہ کامیاب دورہ چین کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ اس دورے میں صدر شی جن پنگ سے ملاقات ہوئی اور دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کو تیز رفتار کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔اسی موقع پر بیجنگ میں ایک شاندار بزنس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں درجنوں پاکستانی اور چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں سرمایہ کاری کے کئی نئے معاہدے اور مفاہمت کی یادداشتیں طے پائیں۔ ان معاہدوں کے نتیجے میں مشترکہ منصوبے سامنے آئیں گے، جس سے روزگار پیدا ہوگا اور ہماری برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ سیمینار سے خطاب میں یونی ورسٹی آف ہرپور کے رجسٹرا ریاض محمد اور پروفیسر ڈٓکٹڑ موہیمن نے کہا کہ سیمینار اور ورکشاپس لوگوں خاص طور پر طلبہ میں شعور بیدار کرنے اور انہیں پاکستان کے انتہائی اہم ترقیاتی منصوبے سے متعلق ٓگہی کا ذریعہ ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سی پیک سے جہاں ٹرانسفارمیشن آف ٹیکنالوجی ہو گی وہیں ہمارے ہزاروں طلباء کو چین میں جدید علوم کی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک میں اب تک ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے جبکہ مختلف اعداد و شمار کے مطابق مستقبل میں مزید ارب دالرز سے زیادہ کی سرمایہ کاری متوقع پر جس پاکستان کی معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔انہوں نے پاک چین دوستی کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ وفود کے تبادلوں کی ضرورت پر زور دیا۔ سیمینار سے خطاب میں چائنہ ونڈو کی ایڈمنسٹریٹر ناز پروین نے اپنے خطاب میں ایس آئی ایف سی کے کردار کا اجاگر کیا اور کہا کہ چین زراعت کے شعبے میں بھی پاکستان کو مدد فراہم کر رہا ہے
اور ضرورت اس امر کی ہے کہ چین کی جانب سے جس طرح زراعت کے میدان میں ترقی ہوئی ہے اس سے پاکستان بھی فائدہ اٹھائے۔انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کے حالیہ دورہ چین کو انتہائی کامیاب قرار دیا اور صدر شی جن پنگ کی جانب سے پاکستان کی امداد جاری رکھنے کے اعلان پر چینی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ واضح رہے کہ چائنہ ونڈو کے زیر اہتمام صوبے بھر کی جامعات میں سی پیک سے آگہی کے سیمنار منعقد کئے جا رہے ہیں
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً.
Related Posts
اہم روابط
