اسلام آباد (شِنہوا) اسلام آباد میں قائم روایتی چینی طب کے مرکز، پاکستان چھی ہوانگ کی سینئر نرس ثنا خان معمول کے طبی معائنے اور علاج کے لئے آنے والے مریضوں کا گرمجوشی سے استقبال کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ انہوں نے 5 روزہ امدادی تقریب کی کامیابی کے لئے تمام ضروری انتظامات کئے۔
30 مارچ سے 3 اپریل تک پاکستان اوورسیز چائنیز ایسوسی ایشن نے پاکستان میں چینی سفارت خانے کے تعاون سے چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کی مناسبت سے ایک مفت طبی کیمپ کا انعقاد کیا۔
ثنا خان نے بتایا کہ ہم نے اس طبی مرکز میں مریضوں کا بہت زیادہ رش دیکھا جہاں روزانہ تقریباً 60 سے 70 مریض، جن میں بیرون ملک مقیم چینی باشندے اور پاکستانی شہری شامل ہیں، معمول کے معائنے، مشاورت اور علاج کے لئے آئے۔ اس کے علاوہ مریضوں میں ابتدائی طبی امداد کے کٹس بھی مفت تقسیم کئے گئے۔
اپنے ٹیسٹ کروانے کے بعد اسلام آباد کی ایک طالبہ ساجدہ مصطفیٰ نے کہا کہ انہوں نے ابھی اپنا مکمل معائنہ کیا اور وہ مرکز کی خدمات سے بے حد متاثر ہوئی ہیں۔
ساجدہ مصطفیٰ، جو حال ہی میں چینی حکومت سے سکالرشپ حاصل کرنے کے بعد پوسٹ ڈاکٹورل ڈگری کے لئے چین جانے والی ہیں، نے بتایا کہ یہاں طبی تجربہ بہترین رہا۔ میں نے تمام ٹیسٹ مکمل کئے اور نتائج بہت اچھے رہے۔
ساجدہ مصطفیٰ نے مزید کہا کہ اس تقریب نے نہ صرف پاکستان میں مقیم چینی باشندوں بلکہ مقامی آبادی بالخصوص ان لوگوں کے لئے بھی قیمتی طبی وسائل فراہم کئے ہیں جنہیں معیاری طبی خدمات تک رسائی میں دشواری ہوتی ہے۔
پاکستان میں کام کرنے والی ایک چینی کاروباری خاتون بائی فورونگ نے شِنہوا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عملہ اپنی ذمہ داریاں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ میری دلی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی مزید مضبوط اور گہری ہوتی رہے۔
اس مرکز میں کئی سالوں سے کام کرنے والے لیب ٹیکنیشن اعزاز حسین نے شِنہوا کو بتایا کہ جب سے فری کلینک شروع ہوا، بہت سے مریض معائنے کے لئے آئے اور افتتاحی دن انہوں نے 100 سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکز میں طبی عملے نے منظم طریقے سے مریضوں کا معائنہ کیا، متعدد ٹیسٹ کئے اور ان کا علاج کیا۔
مرکز میں موجود ایک چینی ڈاکٹر لا جی لیان گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان میں روایتی چینی طب کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مرکز پاکستان میں روایتی چینی طب کے ممتاز ترین اداروں میں سے ایک ہے جو آکوپنکچر کے علاج میں مہارت رکھتا ہے اور روزانہ بہت سے مقامی مریض یہاں علاج کے لئے آتے ہیں۔
ڈاکٹر لا نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ روایتی چینی طب چینی ثقافت کا حصہ ہے۔ ہمیں امید ہے کہ مزید پاکستانی اسے سمجھیں گے، سیکھیں گے اور اس سے مستفید ہوں گے۔
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً.
Related Posts
اہم روابط
