اسلام آباد : کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کی اسلام آباد–راولپنڈی کمیٹی نے اپنے اجلاس میں ملک میں آزادیٔ صحافت اور حقِ اظہارِ رائے کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین یحییٰ سدوزئی نے کی، جبکہ ڈپٹی چیئرمین رافع نیازی سمیت سینئر اراکین راؤ خالد، تزئین اختر، سفیر شاہ، سجاد عباسی، میاں فضل الہٰی، ممتاز احمد صادق، قسور روحانی اور معارج فاروق موجود تھے۔
کمیٹی نے پیکا ایکٹ کے منفی اثرات، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور پرنٹ میڈیا کو درپیش بڑھتی قدغنوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پرنٹ میڈیا ہمیشہ ذمہ دارانہ صحافت کا علمبردار رہا ہے، اس کے باوجود اس کے ساتھ غیر ذمہ دار میڈیا جیسا سلوک روا رکھنا ناانصافی ہے۔
شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر حکومت کی موجودہ پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہ کی گئی تو مستقبل میں اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پرنٹ میڈیا نے ہر دور میں قومی و سفارتی معاملات میں ریاست کا ساتھ دیا ہے اور شاذ و نادر ہی کوئی غیر ذمہ دارانہ مواد شائع کرتا ہے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ محض بیانات کافی نہیں—سی پی این ای کو میڈیا کے حقوق کے تحفظ کے لیے جامع اور موثر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، جس کے لیے سیمینارز، کانفرنسز اور سرکاری سطح پر مضبوط نمائندگی ضروری ہے۔
شرکائے اجلاس نے اے بی سی کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے رجسٹریشن، اے بی سی اور آئی ٹی این ای سے متعلق معاملات کا باقاعدہ جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ میڈیا اداروں کے مسائل کو مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر مرحوم عامر محمود اور دیگر مرحوم اراکین کے لیے دعائے مغفرت کی گئی اور آزادیٔ صحافت کے لیے ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا
