لاہور: چین کی شینژن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکچرل ڈیزائن اینڈ ریسرچ کے ایک وفد نے پیر کے روز جامعہ پنجاب، لاہور کے اسکول آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کا دورہ کیا، جہاں فنِ تعمیر، اربن ڈیزائن اور تخلیقی صنعتوں کے شعبوں میں تعلیمی، تحقیقی اور ادارہ جاتی تعاون کے امکانات پر غور کیا گیا۔
اس موقع پر آنے والے وفد کا اسکول آف آرٹ اینڈ ڈیزائن کی فیکلٹی اور انتظامیہ نے پرتپاک استقبال کیا۔ دورے کے دوران دونوں اداروں کے درمیان ممکنہ مشترکہ اقدامات پر تفصیلی اور مستقبل پر مبنی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، مشترکہ ڈیزائن اسٹوڈیوز، تحقیقی شراکت داری اور علم و جدت کے فروغ کے لیے مشترکہ پلیٹ فارمز کے قیام کی تجاویز شامل تھیں۔
کے گوادر پرو سے گفتگو کرتے ہوئے جامعہ پنجاب کے فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز کے ڈین ڈاکٹر محبوب حسین نے کہا کہ مذاکرات میں ڈیزائن پر مبنی جدت کو پائیدار شہری ترقی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ مربوط کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلیمی اور ثقافتی روابط کا مظہر ہے، جو دوطرفہ تعاون اور عوامی سطح پر روابط کے وسیع تر فریم ورک کو مزید تقویت دیتا ہے۔
خالد تیمور اکرم نے دونوں اداروں کو قریب لانے میں سہولت کاری کا کردار ادا کیا، انہوں نے بتایا کہ حبیب رفیق (پرائیویٹ) لمیٹڈ (ایچ آر ایل)، جامعہ پنجاب کے اسکول آف آرٹ اینڈ ڈیزائن اور شینژن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکچرل ڈیزائن اینڈ ریسرچ پر مشتمل ایک سہ فریقی کنسورشیم قائم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کنسورشیم کے تحت شینژن یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکچرل ڈیزائن اینڈ ریسرچ کے فیکلٹی اراکین جامعہ پنجاب آ کر فنِ تعمیر اور ڈیزائن کی تدریس کریں گے، جبکہ ایچ آر ایل گروپ طلبہ کو اپنے تعمیراتی ڈیزائنز کو عملی اور حقیقی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے مواقع فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق یہ کنسورشیم عملی، صنعت سے منسلک فنِ تعمیر کی تعلیم اور بین الاقوامی تعاون کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے
