اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت ٹاسک فورس برائے نیشنل واٹر سیکیورٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کو درپیش پانی کے بحران، ماحولیاتی تبدیلیوں اور آبی وسائل کے تحفظ پر تفصیلی بحث کی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر آبی وسائل ميان محمد معین وٹو، دیگر وفاقی و صوبائی نمائندوں اور ماہرین بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے آغاز میں وزارت آبی وسائل نے ہندوکش ہمالیہ ریجن میں گلیشیئرز کی تیز رفتاری سے پگھلنے کی صورتحال پر بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ 2011 سے 2020 تک اس خطے میں برف پگھلنے کی شرح میں 65 فیصد اضافہ ہوا ہے، جب کہ سیاچن گلیشیئر ہر سال 50 سے 60 میٹر تک تیزی سے پگھل رہا ہے۔ ہمالیہ کے دیگر پہاڑوں میں بھی سالانہ 30 میٹر تک برف پگھلنے کی شرح ریکارڈ کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 1960 سے اب تک گلیشیئرز کا تقریباً 23 فیصد حصہ پگھل کر ضائع ہو چکا ہے، جو پاکستان کے آبی وسائل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئر پگھلنے اور پانی کے ذخائر میں کمی کو خطرناک درجے کا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو آبی بحران کا سامنا طویل المدتی خطرے کے طور پر درپیش ہے، جس پر فوری عملی اقدامات ضروری ہیں۔
اہم فیصلے اور ہدایات:
-
ورکنگ گروپ کا قیام: وزارت آبی وسائل کے تحت ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا، جسے 15 دن کے اندر قابل عمل سفارشات پلاننگ کمیشن کو پیش کرنا ہوں گی۔
-
فوری ٹیکنیکل ورکشاپ: پانی کی پالیسیوں کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے کے لیے ایک فوری ٹیکنیکل ورکشاپ بلانے کی ہدایت دی گئی۔
-
حل پر مبنی اقدامات: ٹاسک فورس کو صرف مسائل کی نشاندہی تک محدود نہ رہنے بلکہ فوری عملی حل بھی پیش کرنے کا حکم دیا گیا۔
-
پانی کے تحفظ کے 5E فریم ورک پر عمل درآمد پر بھی زور دیا گیا۔
-
وفاق اور صوبوں کے درمیان واٹر سیکیورٹی پالیسی میں ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
پانی اور قومی مفادات:
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ پانی کی بقا ہی ملک کی فوڈ سیکیورٹی، معیشت اور معاشرتی استحکام کی ضمانت ہے، اور واٹر سیکیورٹی صرف ایک شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کی بقا اور خودمختاری کی بنیاد ہے۔ پاکستان کی پانی کی پیداوار کا 80 فیصد حصہ دریاؤں سے حاصل ہوتا ہے، اور آبادی کے بڑھتے دباؤ کے باعث پانی کی طلب میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دریاوں میں آلودگی کے باعث قیمتی میٹھا پانی براہِ راست سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔
اسی سلسلے میں ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت بین الاقوامی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ پاکستان میں 80 فیصد سے زائد آبادی کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی نہیں ہے اور پانی کی قلت ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ بن چکی ہے۔
علاقائی آبی سیاسی حقائق:
اجلاس میں وزیر نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو خطے کے امن اور پاکستان کے آبی حقوق کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور کہا کہ بھارت کی آبی جارحیت کا مقصد پاکستان کو پانی کے بحران سے دوچار کرنا ہے، جس نے دریاوں کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے۔
ڈیمز اور ذخائر:
اجلاس میں ملک میں نئے ڈیمز کے قیام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا، جس میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کو پانی کے ذخائر بڑھانے میں سنگِ میل قرار دیا گیا۔
وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ڈیپارٹمنٹز جیسے واپڈا، ارسا اور نیشنل فلڈ کمیشن کو مستقل ورکنگ گروپ کے لیے اپنی ماہرانہ تجاویز فراہم کرنی ہوں گی، تاکہ وقت بندی اور عملی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
آبادی اور مالیاتی ماڈل اپ ڈیٹ:
اجلاس نے پانی مینجمنٹ کے مالیاتی ماڈل کو بڑھتی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں اور آبی ماہرین مل کر پانی کے تحفظ اور مینجمنٹ پر وسیع منصوبہ بندی کریں
