لاہور کے بعد کوئٹہ میں بھی آج سے بسنت کا تہوار روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
لاہور کے بعد کوئٹہ میں بھی بسنت کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ 13،14اور15 فروری کو شہر رنگوں میں نہائے گا۔ پتنگ مارکیٹوں میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بچے، نوجوان اور بزرگ پتنگیں، مضبوط ڈوراوررنگین دھاگے خریدنے میں مصروف ہیں۔ ہرکوئی آسمان کورنگوں سے بھرنے کے لیے پُرجوش ہے۔
کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں قائم پتنگ بازار خریداروں سے بھر گئے ہیں۔دکاندار کہتے ہیں اس بار بسنت کا جوش پہلے سے زیادہ ہے۔ تودوسری طرف نوجوان اپنی مہارت دکھانے کے لیے بے تاب ہیں۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ لاہور کی طرز پر کوئٹہ میں بھی باقاعدہ سرکاری سطح پر بسنت فیسٹیول منعقد کیا جائے۔ جس سے نوجوانوں کو محفوظ اور مثبت سرگرمیوں کا موقع ملے گا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں سال بھر میں یہی ایک بڑا میلہ ہوتا ہے۔اگر سرکاری سرپرستی مل جائے تو خوشیاں دوبالا ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب سماجی حلقوں نے احتیاط کی اپیل کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ہوائی فائرنگ اور خطرناک ڈور سے قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔چھتوں سے گرنے کے واقعات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ سخت نگرانی اور واضح ایس او پیز نافذ کیے جائیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ ہوائی فائرنگ اور کیمیکل لگی ڈور سے مکمل گریز کریں۔تاکہ بسنت خوشیوں، رنگوں اور حفاظت کے ساتھ منائی جا سکے۔
