ورلڈ ایتھلیٹکس نے خواتین ایتھلیٹس کے لیے لازمی جینڈر ٹیسٹ کرانےکا فیصلہ کیا ہے۔
عالمی رینکنگ مقابلوں میں ویمن کیٹیگری میں شرکت کی خواہشمند ایتھلیٹس کو جینڈر ٹیسٹ کرانا ہوگا۔
کھلاڑی کی جنس کی تصدیق کے لیے "ایس آر وائی” ٹیسٹ پلیئر کو زندگی میں ایک بار ہی کرانا ہوگا۔
ورلڈ ایتھلیٹکس کا کہنا ہےکہ جن ایتھلیٹس کے ٹیسٹ نتائج منفی ہوں گے وہی خواتین کیٹیگری میں شرکت کی اہل ہوں گی۔ 25 ستمبر سے ہونے والی ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ سے یہ قانون نافذ العمل ہوگا۔
ورلڈ ایتھلیٹکس کے مطابق ورلڈ چیمپئن شپ میں شرکت کی خواہشمند ایتھلیٹس یکم ستمبر تک ٹیسٹ کے نتائج جمع کرانے کی پابند ہوں گی۔ جینڈر ٹیسٹ کی ذمہ داری متعلقہ فیڈریشن کی ہوگی۔
خیال رہے کہ امریکا کی اولمپک اور پیرا اولمپک کمیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ٹرانسجینڈرز کو خواتین کےکھیلوں میں مقابلہ کرنے سے روک دیا ہے۔
امریکی اولمپک کمیٹی کا کہنا ہےکہ وہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نگرانی کی ذمہ داریوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی اور اس بات کو یقینی بنائےگی کہ خواتین کو ایگزیکٹیو آرڈر 14201 اور ٹیڈ سٹیونز اولمپک اینڈ ایمیچور اسپورٹس ایکٹ کے مطابق ایک منصفانہ اور محفوظ مسابقت کا ماحول میسر ہو۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں ‘مردوں کو خواتین کےکھیلوں سے باہر رکھنے’ کے آرڈر پر دستخط کیے تھے تاکہ ٹرانسجینڈر کھلاڑیوں کو خواتین کے کھیلوں سے خارج کیا جاسکے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ٹرانسجینڈر ایتھلیٹس کو 2028 میں لاس اینجلس اولمپکس میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔
اس حکم میں محکمہ انصاف کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام سرکاری ادارے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ٹرانسجینڈر لڑکیوں اور خواتین پر خواتین کے اسکول کے کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی کو نافذکریں۔
