وزیراعظم شہبازشریف اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی ہے۔ قومی ترقی اور عوامی خدمت کیلئے وفاق اور صوبوں میں قریبی روابط ناگزیر قرار دیدیا گیا۔
وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں دونوں رہنماؤں کی پہلے ون آن ون اور پھر وفود کی سطح پر ملاقات میں وفاق اور صوبے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفود کی سطح پر ملاقات میں وفاق اور صوبے کے مابین امور پر گفتگو کی گئی، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور مشیر خزانہ کے پی مزمل اسلم بھی شریک تھے۔
ملاقات میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیراعظم شہبازشریف کو صوبے کے مسائل اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر بریفنگ دی ۔ دہشتگردی کی روک تھام کیلئے اقدامات کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے عوام کی ترقی وخوشحالی پرزور دیا، کہا وفاق اورصوبائی حکومت کے درمیان تعاون ضروری ہے، امن وامان کیلئے صوبائی حکومت کو مزید کوششیں کرنا ہوں گی، خیبرپختونخوا حکومت صوبائی اداروں کومضبوط کرے، امن کاقیام اور عوامی فلاح کیلئے صوبائی حکومت آئینی ذمہ داری نبھائے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، وفاق اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور کاوشیں جاری رکھے گا، وفاق تمام صوبوں کوساتھ لےکرچلنےاوریکساں ترقی کے وژن پرعمل پیرا ہے۔ صوبے کی خوشحالی کیلئے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار میں کاوشیں جاری رکھے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی، صوبائی حکومت با اختیار ہے، صحت و تعلیم کیلئے خیبر پختونخوا کے عوام کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کیلئے ہمیشہ سے کوشاں ہے۔ باہمی مشاورت اور اشتراک عمل سے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی حاصل کی جاسکتی ہے۔
آج کی ملاقات عہدے کا تقاضا تھا، سہیل آفریدی
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام اور صوبے کیلئے ملاقات کرنا مناسب سمجھا، آج کی ملاقات عہدےکا تقاضا تھا، وزیراعظم شہبازشریف نے دعوت دی تھی ان سے ملاقات ہوئی، صوبے کے مسائل پر بات ہوئی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ 26 ارب سابق فاٹا پرلگا چکے ہیں، تمام چیزیں حکومت کے سامنے رکھی ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت جاری کی کہ میٹنگ کرکےمسائل حل کریں، ابھی اجلاس اور ہوں گے فیصلے ہوں گے تو سامنے آجائیں گے، تمام لوگوں کو قربانیوں کا احساس کرنا چاہیے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ملاقات میں کسی سیاسی معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی، بانی پی ٹی آئی کی ملاقات سےمتعلق بات نہیں ہوئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے واقعہ کی مذمت کی ہے، دہشتگردی کا کوئی مذہب، ملک یا صوبہ نہیں ہوتا۔
کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی،امیر مقام
وفاقی وزیر امیر مقام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور سہیل آفریدی کی ملاقات میں بانی پی ٹی آئی کی ملاقات سمیت کوئی سیاسی بات نہیں ہوئی۔ صرف صوبائی معاملات زیر بحث آئے۔ سب پاکستان کے لیے متحد ہیں، دہشتگردی کسی ایک پارٹی کا مسئلہ نہیں ہے تمام ادارے افواج اور عوام قربانیاں د ے رہے ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ اداروں کے خلاف بات کرنا اچھی بات نہیں ہے، دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا، اب بھی سیاست کو پیچھے رکھ کر آگے بڑھنا چاہئے، ہم بھی کہتے ہیں کہ بیٹھ کر بات کرنی چاہئے، سیاست اپنی جگہ لیکن صوبے کی نمائندگی اور قریبی رابطہ رکھنا چاہئے۔
