وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کا تاریخی بلقیس بیگم کیس فیصلہ غیر مؤثر کردیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے وائس چانسلربےنظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کی اپیل منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردےدیا،وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس عامر فاروق نے 18صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔
فیصلےمیں کہا گیا کہ آئینی عدالت کو اختیار ہےکہ وہ قانون کی نئی تشریح کرسکتی ہے،جہاں قانون خاموش ہووہاں عدالت خود خلا پر کرنے کیلئےمرضی کا انصاف نہیں کرسکتی،عدالتیں ذاتی اخلاقیات یا ہمدردی سے قانون کی جگہ نہیں لے سکتیں۔
فیصلےمیں کہاگیاکہ سندھ ہائیکورٹ نےطالبعلم کواسپیشل سپرسپلیمنٹری امتحان کی اجازت دی تھی، قانون،ضابطے یاریگولیشن میں اسپیشل،سپرسپلیمنٹری امتحان کی اجازت نہیں، وفاقی آئینی ہائی کورٹس ہمدردی، مساوات یا ذاتی احساسات کی بنیاد پرحکم جاری نہیں کرسکتیں،عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتے،عدالتی ساکھ جذباتی فیصلوں میں نہیں بلکہ قانون پر عمل کرنے میں ہے۔
فیصلے میں کہا گیاکہ ججزکوقانون کےمطابق کسی خوف اورامتیاز کےبغیرانصاف کرنا ہوتا ہے،پاکستان افراد نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والی ریاست ہے،ججز نجی افراد نہیں بلکہ ایک غیرجانبدارمنصف ہوتے ہیں،ہمدردی کو قانونی ذمہ داری پرترجیح دیناعدالتی منصب سے انحراف ہے،پاکستان کا آئینی سفر ہمیشہ قانون کے دائرے میں طے ہوا۔
ذاتی نیک نیتی یا بےلگام اختیارآئینی نظام کاحصہ نہیں،آرٹیکل 187 کےتحت ہمدردی کا اختیارصرف سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کا ہے،ہائی کورٹس آرٹیکل 199 کےتحت محدوددائرہ اختیار رکھتی ہیں ، ہائی کورٹس صرف وہی اختیار استعمال کرسکتی ہیں جو آئین یا قانون میں ہو۔
