امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 فروری کو ایک یادداشت پر دستخط کیے ، جس میں متعلقہ محکموں سے کہا گیا کہ وہ ہر غیر ملکی تجارتی شراکت دار کے ساتھ "ریسیپروکل ٹیرف ” کا تعین کریں۔
اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں چین کی وزارت تجارت کے ترجمان حہ یاڈونگ نے 20 فروری کو ایک رسمی پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکی عمل نہ صرف ڈبلیو ٹی او کے قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ تقریباً گزشتہ 80 سالوں میں کثیر الجہتی تجارتی نظام کے مذاکرات میں طے پانے والے مفادات کے توازن کو بھی نظر انداز کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی عمل اس حقیقت کو بھی نظر انداز کرتا ہے کہ امریکہ نے طویل عرصے سے بین الاقوامی تجارت سے بہت سے فوائد حاصل کیے ہیں، جو یکطرفہ پسندی اور تحفظ پسندی ہے۔
ترجمان کا کہناتھا کہ اگر امریکہ کی طرف سے "ریسیپروکل ٹیرف” پر عمل درآمد ہو تا ہے تو یہ لامحالہ ایم ایف این سمیت دیگر قواعد پر مبنی کثیر الجہتی تجارتی نظام کو شدید نقصان پہنچائے گا، عالمی سپلائی چین پر اثر انداز ہوگا اور معمول کی بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں میں بھی بڑی غیر یقینی صورتحال پیداکرے گا ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ٹیرف کی جنگ کا کوئی مستقبل نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی فاتح ہوگا. انہوں نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ اپنے غلط اعمال کو درست کرے اور دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر مساوی بنیادوں پر مشاورت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرے۔
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً.
Previous Articleچین نے ایشیا کے سب سے گہرے عمودی کنویں کی کھدائی مکمل کر لی
Related Posts
اہم روابط
