اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 12 تاریخ کو متفقہ طور پر قرارداد 2816 منظور کی، جس کے تحت طالبان سے متعلق 1988 کی پابندیوں کی کمیٹی کے مانیٹرنگ گروپ کی اجازت کو ایک سال کے لیے بڑھا دیا جائے گا ۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری کے بعد اپنی وضاحتی تقریر میں، اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے فو چھونگ نے کہا کہ 1988 کی پابندیوں کے نظام کی بہت سی دفعات افغانستان کی صورتحال میں آنے والی زبردست تبدیلیوں کی عکاسی نہیں کر سکتیں۔ چین سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ متعلقہ مسائل پر توجہ دے اور 1988 کی پابندیوں کے نظام کا منظم اور مستقبل پر مبنی جائزہ لے اور اسے ایڈجسٹ کرے تاکہ موجودہ صورتحال میں ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔
فو چھونگ نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کے ارکان اور عام رکن ممالک کی رائے سننے کو اہمیت دینا ضروری ہے، اور شنگھائی تعاون تنظیم اور اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم جیسے اہم علاقائی اداروں کے ساتھ رابطے اور تبادلے کو مضبوط کرنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین افغان حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی انسداد دہشت گردی کی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے پورا کرے اور افغانستان میں تمام دہشت گرد تنظیموں جیسے داعش، القاعدہ ، "ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ” اور تحریک طالبان پاکستان کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے زیادہ مضبوط اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ علاقائی استحکام و سلامتی کو برقرار رکھا جا سکے ۔
