پشاور: کرم میں امن معاہدے پر عملدرآمد کے بعد راستوں کی بندش ختم ہوگئی اور معمولات زندگی بحال ہونے لگے، پہلا قافلہ اشیاء خورونوش لے کر ٹل سے پاراچنار روانہ ہوگیا۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف پہلے قافلے کو رخصت کرنے کیلئے کوہاٹ پہنچے اور قافلہ کرم کے بارڈر ایریا چھپری کیلئے روانہ کیا۔
کرم امن معاہدے کے تحت قائم امن کمیٹیوں کی ضمانت پر اشیائے خورونوش اور سامان پر مشتمل ٹرکوں کا پہلا قافلہ ٹل سے پاراچنار کے لئے روانہ ہوا، امدادی سامان میں آٹا، چینی اور دیگر اشیائے خورونوش شامل ہیں، سامان سے بھرے ٹرکوں کو سخت حفاظتی حصار میں پاراچنار روانہ کیا گیا۔
قافلوں میں 5 ٹرک ادویات، 10 ٹرک سبزیاں، 9 ٹرک گھی اور آئل، 5 ٹرک آٹا، 7 ٹرک چینی بھی شامل ہے، 2 ٹرک گیس سلنڈرز اور 26 ٹرک دیگر اشیاء کے ہیں۔
پی ڈی ایم اے نے بھی امدادی سامان انتظامیہ کے حوالے کر دیا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق امدادی سامان میں 500 خیمے، 500 چٹائیاں اور 200 ترپال، 500 طبی حفاظتی کیٹس، 500 تکیے اور 50 سولر لیمپس بھی شامل ہیں، سردی سے بچاؤ کیلئے 500 کمبل، 500 بسترے اور 150 سلیپنگ بیگز دیئے گئے ہیں۔
مشیر برائے ریلیف نیک محمد پشاور کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت متاثرین کی امداد کو اولین ترجیح دے رہی ہے، کرم کے متاثرین کی فوری بحالی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، حکومت امدادی سامان کی شفاف تقسیم کو یقینی بنائے گی۔
یاد رہے کہ کوہاٹ جرگے میں امن معاہدے کے بعد راستہ کھولنے کا فیصلہ ہوا تھا۔
کرم میں امن کی بحالی کیلئے مقامی افراد، قبائلی و سیاسی قیادت پر مشتمل امن کمیٹیاں قائم کی گئیں ہیں، امن کمیٹیوں میں تمام مسالک اور فقہ کے افراد شامل ہیں۔
مقامی امن کمیٹی میں لوئر کرم سے سابق ایم این اے پیر حیدر علی شاہ، عابی فیض الله، حسین علی سمیت 27 ممبران شامل ہیں جبکہ اپرکرم سے سابقہ سینیٹر سجاد حسین طوری، ایم پی اے علی ہادی، مزمل شاہ سمیت 48 ممبران شامل ہیں۔
