رین میڈیسن” اسکینڈل کے حوالے سے خیبر پختونخوا میں ایک مبینہ 1.31 ارب روپے کی ادویات خریداری میں بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ایک لیک شدہ سرکاری میمو کے مطابق مالی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں کی گئیں، جہاں زندگی بچانے والی ادویات کے لیے مختص فنڈز ایسے اخراجات پر خرچ کیے گئے جو منظور شدہ خریداری آرڈرز سے کہیں زیادہ تھے۔ مزید یہ کہ ادویات کی ادائیگیاں لازمی ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کی منظوری کے بغیر کی گئیں، جس سے عوامی صحت کو ممکنہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

احتساب کے دعووں کے برعکس، صحت کے شعبے میں مبینہ بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔ آڈٹ ریکارڈ کے مطابق بعض ہسپتالوں نے کاغذوں میں اپنا 100 فیصد بجٹ استعمال ظاہر کیا، لیکن زمینی سطح پر بنیادی ادویات کی کمی دیکھی گئی۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ادائیگیاں گزشتہ سالوں کے واجبات اور مقامی خریداریوں کے لیے استعمال ہوئیں، جو مقررہ طریقہ کار کے خلاف ہیں۔

ان انکشافات کے بعد عوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے اور متعلقہ حکام سے شفاف تحقیقات اور وضاحت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔
