کراچی میں گل پلازہ میں بھڑکے شعلے 33 گھنٹے بعد بھی نہ بجھائے جاسکے۔ اب تک فائرفائٹر سمیت 14 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہوگئے۔ 60 سے زائد افراد لاپتا ہونے کی تصدیق کردی گئی۔ آگ سے گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکے۔ مخدوش عمارت کے متعدد حصے زمین بوس ہوگئے۔
کراچی میں گل پلازہ کی آگ نے کئی گھروں کے چراغ گل کردیے۔ 33 گھنٹے بعد بھی شعلے مکمل قابو میں نہ آسکے۔ گراؤنڈ فلور پر دوبارہ آگ بھڑک اٹھی۔ اس سے پہلے ریسکیو ٹیمیں عمارت کے دوحصوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئیں۔
رات بھر سرچ آپریشن کے دوران مزید لاشیں اور انسانی باقیات نکال لی گئیں۔ لاشوں کی حالت خراب، شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی جائے گی۔ جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوچکی ہے۔ 60 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
شاپنگ مال میں کام کرنے والا عارف کل رات سے لاپتا ہیں، شادی کی خریداری کیلئے آئی ایک ہی خاندان کی 4 خواتین لاپتا ہیں۔ 1200 دکانوں پر مشتمل پلازہ کا گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکے ہیں ۔ بالائی دو منزلیں بھی راکھ ہو گئیں۔ مخدوش عمارت کے متعدد حصے زمیں بوس ۔ کسی بھی وقت پوری عمارت گرنے کا خدشہ ہے۔
ریسکیو آپریشن کی مؤثر نگرانی کےلیےڈپٹی کمشنر جنوبی نے کمشنر کراچی کے احکامات پر 30 افسران پرمشتمل 6 ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں،ہر ٹیم میں ایک سربراہ کےساتھ دو اسسٹنٹ کمشنرز اور دو مختیارکار شامل ہوں گے، جبکہ یہ ٹیمیں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کریں گی۔
تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ کراچی کے گل پلازہ میں آگ سے تاجروں کا تقریباً 3 ارب روپے کا نقصان ہوا ۔ ہر دکان میں 25 سے 30 لاکھ روپے کا مال تھا ۔ شادیوں کا سیزن ہے اور عید قریب ہے ۔ حکومت متاثرہ تاجروں کےلیے بولٹن مارکیٹ طرز کے پیکج کا اعلان کرے۔
