گوادر : گوادر کو جدید ساحلی شہر بنانے کے راستے‘‘ کے عنوان سے شروع کیے گئے اقدام کے تحت 9 فروری کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں بلیو اکانومی کے فروغ کے ساتھ ساتھ گوادر کو تجارت، سیاحت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک ممتاز، پائیدار اور عالمی معیار کا شہر بنانے پر غور کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کی۔ اجلاس میں چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ، پلاننگ کمیشن، گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، پورٹ قاسم اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ کے حکام، متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے سربراہان اور اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ نے گوادر بندرگاہ کو مکمل طور پر فعال بنانے، ساحلی سیاحت، بلیو اکانومی، پانی اور بجلی کے پائیدار حل، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، گوادر کو ٹیکس فری زون قرار دینے، ماہی گیری کے شعبے کی ترقی، ایکواکلچر، شپ یارڈز کے قیام اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں ساحلی سیاحت کے فروغ، بلوچستان کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے تحت زیرِ التوا آٹھ ریزورٹس کی تکمیل، بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے لیے جامع سیاحتی ماسٹر پلان کی تیاری، زمین کے استعمال اور زوننگ کے لیے واضح فریم ورک تشکیل دینے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) ماڈل کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کی سفارشات کی گئیں۔ اس کے ساتھ عالمی معیار کے ریزورٹس کے قیام کے لیے ٹیکس میں رعایت اور مراعاتی پیکجز کے ذریعے بین الاقوامی ہوٹل چینز کو راغب کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
پانی اور توانائی کے شعبے میں ساحلی علاقوں میں پی پی پی ماڈل کے تحت مزید آر او پلانٹس کی تنصیب، گوادر فری زونز کو بلا تعطل اور مستحکم بجلی کی فراہمی، اور ساحلی آبادیوں کے لیے بجلی کے استحکام سے متعلق منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری کی گئیں۔
رابطہ کاری کے شعبے میں گوادر 2026 روڈ شو کے انعقاد، چین، سعودی عرب اور پاکستان کے اشتراک سے سرمایہ کاری کے فروغ، گوادر بندرگاہ کے ذریعے ٹرانس شپمنٹ کے لیے بین الحکومتی مذاکرات، اسلام آباد۔گوادر کے درمیان ہفتہ وار کم از کم ایک پرواز شروع کرنے، نوکنڈی۔گوادر ریلوے رابطے، گوادر۔سوہار زیرِ سمندر سرنگ اور میری ٹائم کوریڈور کے پری فزیبلٹی مطالعات، اور عمان کے ساتھ فیری سروس کے آغاز سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صنعتی اور تجارتی ترقی کے حوالے سے پی پی پی ماڈل کے تحت گوادر میں ہائی رائز کمرشل کمپلیکس کی تعمیر، گوادر شپ یارڈ کے قیام اور جیوانی کے ساحلی علاقوں میں آبی وسائل سے متعلق کلسٹر بنیادوں پر منصوبوں کو ترجیح دینے کی سفارشات پیش کی گئیں۔
اجلاس میں صحت، تعلیم اور سکیورٹی کے شعبوں پر بھی توجہ دی گئی، جن کے تحت یونیورسٹی آف گوادر کو 2026 تک مکمل طور پر فعال بنانے اور گوادر اسمارٹ سٹی منصوبے کو بروقت مکمل کرنے پر زور دیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نورالحق بلوچ کی سربراہی میں ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جو ان سفارشات کو حتمی شکل دے گا اور مزید قابلِ عمل تجاویز شامل کرے گا۔ ورکنگ گروپ آئندہ چند دنوں میں گوادر کی مجموعی ترقی سے متعلق جامع سفارشات مرتب کرے گا تاکہ عملی اقدامات کا آغاز کیا جا سکے
