اسلام آباد: پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی خوریف نے بین الاقوامی امور پر ایک بریفنگ کے دوران یوکرین تنازع، عالمی طاقتوں کے توازن اور جاری سفارتی کوششوں پر تفصیل سے اظہار خیال کیا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ روس یوکرین میں جاری جنگ کو محض دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں سمجھتا بلکہ اسے نام نہاد مجموعی مغرب کے ساتھ ایک بالواسطہ تصادم قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تنازع ایک نئے کثیر القطبی عالمی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک عالمی سیاست پر نمایاں رہیں گے۔
سفیر نے کہا کہ بحران کی بنیادی وجہ کیف حکومت کی جانب سے ڈونباس کو طاقت کے ذریعے اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش تھی، جو وہاں کے عوام کی خواہشات کے برعکس تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2014 سے 2022 کے دوران روس نے امن کے قیام کے لیے متعدد سفارتی اقدامات کیے۔
میدان جنگ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالات اس وقت روسی افواج کے حق میں جا رہے ہیں، جبکہ یوکرینی افواج کی جانب سے شہری علاقوں اور بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے 10 مارچ کو بریانسک پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں 8 افراد جاں بحق اور 47 زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق 2025 کے دوران روسی علاقوں پر یوکرینی حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں شہری متاثر ہوئے، جن میں بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ روس تنازع کے حل کے لیے مذاکراتی عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق 2026 میں اب تک ابوظہبی اور جنیوا میں سہ فریقی مذاکرات کے تین دور ہو چکے ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں قیدیوں کے تبادلے بھی کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ کیف حکومت ڈونباس کے عوام کے فیصلے کو تسلیم کرے اور اپنی افواج وہاں سے واپس بلائے۔ ان کے مطابق جنگ بندی اسی صورت میں مؤثر ہو سکتی ہے جب تنازع کی بنیادی وجوہات کو حل کیا جائے، جن میں نیٹو کی توسیع اور روسی زبان بولنے والوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک شامل ہیں۔
زاپوروجیا جوہری بجلی گھر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس تنصیب کی حفاظت روس کی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ یوکرینی حملوں کے باعث جوہری خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اختتام پر روسی سفیر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا ملک خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
