سال 2025 چین کے چودہویں پانچ سالہ منصوبے (2021-2025) کے نفاذ کا حتمی مرحلہ ہے۔ یہ منصوبہ روایتی ترقی پر مبنی اہداف کے مقابلے میں اعلیٰ معیار کی ترقی کو ترجیح دیتا ہے، جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کی بدلتی ہوئی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سال کے ’دو اجلاس‘ کے منگل کے روز باضابطہ آغاز کے ساتھ، چین کے قومی قانون ساز اور سیاسی مشیر ملک کی کامیابیوں کا جائزہ لینے اور مستقبل کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ موقع چین کے پانچ سالہ منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے بھی نہایت موزوں ہے۔ لیکن یہ منصوبے کیا ہیں اور انہوں نے ملک کی غیر معمولی ترقی میں کس طرح کردار ادا کیا ہے؟
پانچ سالہ منصوبہ کیا ہے؟
پانچ سالہ منصوبے چین کی معاشی و سماجی ترقی کا ایک جامع لائحہ عمل ہیں، جو ہر منصوبہ بندی کے دورانیے کے لیے اہداف، حکمت عملیوں اور ترجیحات کا تعین کرتے ہیں۔
پہلے پانچ سالہ منصوبے (1953-1957) کے آغاز سے لے کر آج تک، یہ منصوبے نہ صرف چین کی انقلابی ترقی کی رہنمائی کرتے رہے ہیں، بلکہ ہر دور کے منفرد چیلنجوں کے مطابق خود کو جدت اور لچک کے ساتھ ڈھالتے آئے ہیں۔ یہ چین کی منصوبہ بندی کی صلاحیت، دور اندیشی، اور عوامی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگی کا بے مثال نمونہ ہیں۔
مثال کے طور پر، پہلے پانچ سالہ منصوبے نے بھاری صنعت اور صنعتی ترقی پر زور دیا؛ ساتواں پانچ سالہ منصوبہ (1986-1990) بنیادی ضروریات زندگی کے مسائل حل کرنے پر مرکوز تھا؛ نویں پانچ سالہ منصوبے نے (1996-2000) معتدل خوشحالی کی راہ متعین کی؛ جبکہ تیرہویں پانچ سالہ منصوبہ (2016-2020) نے ہر لحاظ سے ایک معتدل خوشحال معاشرے کی جامع تعمیر کے ہدف پر زور دیا۔
چودہواں پانچ سالہ منصوبہ چین کے تمام پہلوؤں سے ایک معتدل خوشحال معاشرے کی تعمیر کا ہدف حاصل کرنے کے بعد شروع کیا گیا جو کہ اعلیٰ معیار کی ترقی پر مرکوز تھا۔ روایتی طرز عمل سے ہٹ کر، اس منصوبے میں جی ڈی پی کی مخصوص شرحِ نمو کا ہدف مقرر کرنے کے بجائے، ماحولیاتی تحفظ، ٹیکنالوجی میں خود انحصاری، مشترکہ خوشحالی، متوازن علاقائی ترقی، گہرے اصلاحات، اور اعلیٰ معیار کی کھلی پالیسیوں کو ترجیح دی گئی۔
چھنگہوا یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے عصری چینی مطالعات کے نائب سربراہ، یان ییلونگ کے مطابق ابتدائی پانچ سالہ منصوبے بنیادی طور پر اقتصادی ترقی پر مرکوز تھے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان میں سماجی فلاح و بہبود، تکنیکی جدت اور ماحولیاتی تحفظ کو بھی شامل کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”آج، پانچ سالہ منصوبہ معیشت، سماج، ٹیکنالوجی، ماحولیات اور ثقافت سمیت وسیع شعبوں کا احاطہ کرتا ہے، جو ترقی کے ایک جامع نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔“
چین میں پانچ سالہ منصوبے کیوں کامیاب ہوتے ہیں؟
چین کے پانچ سالہ منصوبے استحکام، دوراندیش حکمت عملی، اور موثر نفاذ کی خصوصیات کی بدولت ملک کو ایک زرعی پسماندہ معاشرے سے عالمی صنعتی طاقت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ تمام 14 پانچ سالہ منصوبوں میں ترجیحات کے بدلنے کے باوجود، جو صنعتی کاری اور معاشی اصلاحات سے لے کر پائیداری اور جدت تک پھیلی ہوئی ہیں، ایک مقصد ہمیشہ سے غیر متزلزل رہا ہے اور وہ ہے قومی ترقی اور خوشحالی۔
جیسا کہ چینی صدر شی جن پھنگ نے واضح کیا ہے کہ پہلے پانچ سالہ منصوبے سے لے کر چودہویں پانچ سالہ منصوبے تک، چین کی توجہ مسلسل ایک جدید سوشلسٹ ملک کی تعمیر پر مرکوز رہی ہے۔
برطانوی دانشور مارٹن جیکس نے پانچ سالہ منصوبوں کو ’ تزویراتی اور لچکدار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”پانچ سالہ منصوبے چینی ذہنیت اور طویل مدتی سوچ پر مبنی چینی نظریہ کے عین مطابق ہیں۔“
جیسا کہ چھنگہوا یونیورسٹی کے چائنہ انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ پلاننگ کے نائب ڈین یانگ یونگ ہینگ نے واضح کیا، ”تاریخی نقطہ نظر سے، پانچ سالہ منصوبہ چین کی قومی ترقی کی حکمت عملی کے مرحلہ وار تعیناتی کا ایک کلیدی ذریعہ ہے۔ ہر منصوبہ پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنانے اور طویل المدتی اسٹریٹجک مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ایک سوچا سمجھا اور منظم قدم ہے۔“
پانچ سالہ منصوبوں کے ارتقاء کے دوران، ان کے عنوانات میں دو اصطلاحی ترامیم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان میں سے ایک چھٹا پانچ سالہ منصوبہ (1981-1986) ہے، جس کے دستاویزی عنوان میں ’قومی معیشت‘ کے ساتھ ’سماجی ترقی‘ کو بھی شامل کیا گیا۔ اس تبدیلی نے منصوبے کے دائرہ کار کو وسیع کیا اور معاشی ترقی اور سماجی ترقی کے درمیان ربط پر زور دیا، جو معاشی و سماجی ترقی کے ہم آہنگ تصور کی جانب ایک اہم پیشرفت کی عکاسی کرتا ہے۔

اسی طرح گیارہویں پانچ سالہ منصوبے (2006-2010) میں سرکاری چینی عنوان میں ’جیہوا‘ کی بجائے ’گوئیہوا‘ کو اپنایا گیا۔ اگرچہ دونوں لفظوں کا مطلب ’منصوبہ‘ ہے، لیکن ’گوئیہوا‘ ایک جامع، حکمت عملی اور پالیسی پر مبنی تصور کو ظاہر کرتا ہے، جو روایتی منصوبہ بندی (جیہوا) کے مقابلے میں چین کی ترقیاتی حکمت عملی کی گہرائی، لچک اور دوراندیشی کی عکاس ہے۔
ان منصوبوں کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے تشکیل اور نفاذ بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ کئی دہائیوں کے تجربات اور جدت کے بعد، پانچ سالہ منصوبے بنانے کا ایک منظم، معیاری اور کثیر المراحل عمل تشکیل دیا گیا۔ اس کا آغاز پچھلے منصوبے کے درمیانی مدت کے جامع جائزے سے ہوتا ہے، جس میں ابتدائی تحقیق، مسودہ تیاری، مشاورتی مکالمے، اداروں کے درمیان ہم آہنگی، ماہرین کی جانچ پڑتال اور حتمی منظوری شامل ہوتی ہے۔
شفاف، مشاورتی اور شواہد پر مبنی یہ عمل چین کی ترجیحات کو عوامی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے، جبکہ قومی اتفاق رائے کو مضبوط بناتے ہوئے ترقی کے مشترکہ ہدف کو حاصل کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔
پانچ سالہ منصوبوں کے نفاذ میں بڑے منصوبے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پہلے منصوبے کے 156 سوویت معاونت یافتہ منصوبوں سے لے کر تیرہویں منصوبے کے 165 اور چودہویں منصوبے کے 102 منصوبوں تک، ہزاروں منصوبوں نے چین کی معیشت کو استحکام بخشا ہے۔ یہ منصوبے چینی خصوصیات کے ساتھ اشتراکیت کی مضبوطی، منصوبہ بندی کی صلاحیت، اور قومی یکجہتی کا زندہ ثبوت ہیں۔
یان نے کہا کہ” چین قومی اہداف حاصل کرنے کی مضبوط صلاحیت رکھتا ہے۔ پانچ سالہ منصوبہ چین کی حکمرانی کا ایک منفرد پہلو ہے۔“
پانچ سالہ منصوبوں کے کیا نتائج سامنے آئے؟
ایک زرعی معاشرے سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بننے تک، چین نے تیز رفتار اقتصادی ترقی اور طویل مدتی سماجی استحکام کے دوہرے معجزات حاصل کیے ہیں، جس میں تمام پانچ سالہ منصوبوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
اعداد و شمار خود اپنی گواہی د یتے ہیں۔
دسویں پانچ سالہ منصوبے (2001-2005) کے دوران، چین دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن گیا۔ اس کے بعد کے گیارہویں منصوبے کے مطابق چین نے جرمنی اور جاپان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے عالمی سطح پر دوسرا مقام حاصل کیا۔ 2020 میں تیرھویں منصوبے کے اختتام تک، چین کی جی ڈی پی (کل ملکی پیداوار) 1000 کھرب یوآن (موجودہ شرح پر 137کھرب امریکی ڈالر) کی حد کو عبور کر چکی تھی۔ چودھویں منصوبے کے ابتدائی سال 2021 سے، چین کی فی کس جی ڈی پی 12 ہزار ڈالر سالانہ سے اوپر رہی ہے۔

غربت کے خاتمے کو لیجیے۔ اسے ساتویں منصوبے کے آغاز میں ہی ایجنڈے میں شامل کر لیا گیا تھا۔ گزشتہ دہائیوں کے دوران، چین نے 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا ہے، جو عالمی غربت میں کمی کا 70 فیصد سے زیادہ حصّہ ہے۔ اس طرح اقوام متحدہ کے 2030 پائیدار ترقی کے ایجنڈے کے اہداف قبل از وقت پورے کر لیے گئے۔
مزید برآں، اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، چین نے اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقی کے ایجنڈے کے لیے 126 اشاریوں کو مقررہ وقت سے پہلے حاصل کیا ہے۔
چین کا ترقی کو فروغ دینے کے لیے ایسے منصوبوں کا استعمال ایک موثر حکمرانی کا طریقہ کار ثابت ہوا ہے، جو ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک قابل غور ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایتھوپیا کے ادارہ برائے خارجہ امور میں سینئر بین الاقوامی تعلقات اور سفارت کاری کے محقق میلاکو مولالم نے واضح کیا کہ گزشتہ پانچ سالہ منصوبوں کی خوبیاں اور کامیابیاں مستقبل کے منصوبوں کی بنیاد بن سکتی ہیں، جبکہ کمزوریوں اور خامیوں کا باریکی سے تجزیہ کرکے انہیں دور کیا جاتا ہے۔ مولالم نے زور دیا کہ ہر پانچ سال بعد جامع جائزہ لینا دوسرے ممالک کے لیے ایک قابل تقلید عمل ہے۔
پیکنگ یونیورسٹی کے محقق یِن جون نے اپنی کتاب ’پہلے سے چودہویں پانچ سالہ منصوبے کا جائزہ‘ میں لکھا ہے کہ چین کی ترقیاتی حکمت عملیوں نے متعدد ترقی پذیر ممالک کی توجہ حاصل کی ہے۔ یہاں تک کہ پولینڈ، ایتھوپیا اور تنزانیہ جیسے ممالک نے اپنی منصوبہ بندی کی مشاورت میں مدد کے لیے چینی اداروں کو مدعو کیا ہے۔
برطانوی دانشور مارٹن جیکس نے کہا کہ” بہت سے ممالک میں منصوبہ بندی پر بات ہوتی ہے، لیکن چین نے اسے ایک ایسے منفرد انداز میں عملی جامہ پہنانے کا طریقہ کار وضع کیا ہے جو شاید کہیں اور دیکھنے میں نہیں آیا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے ممالک اپنی پالیسیوں کے لیے اس شعبے میں چین سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
