نازپروین
شینجان کا صوبہ چین کے شمال مغرب میں واقع ہے ۔یہ ایک جنت نظیر علاقہ ہے۔جیسے لاہور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا نہیں ہوا کچھ اس سے ملتی جلتی کہاوت شینجان کے بارے میں بھی ہے کہ جس نے شینجان نہیں دیکھا اس نے چین نہیں دیکھا۔رقبے کے لحاظ سے یہ چین کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کا رقبہ ایک 1.66 ملین سکوئر کلومیٹر ہے .اس صوبے کی سرحدیں آٹھ ممالک سے ملتی ہیں .جن میں منگولیا، روس، قازقستان ،کرغزستان ، تاجکستان ، افغانستان ،پاکستان اور انڈیا شامل ہیں ۔شینجان چین کا پاکستان سے قریب ترین مقام ہے۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی پہاڑوں سے بلند ہے تو اس سے مراد شینجان اور پاکستان کے درمیان پھیلے قراقرم کے بلند و بالا پہاڑی سلسلے سے لی جاتی ہے۔جہاں دشوار گزار پہاڑوں کو زیر کر کے دونوں ملکوں نے مل کر KKH قراقرم شاہرا بنائی ۔شینجان پاکستان چین اقتصادی راہداری کا منبع ہے۔یہ شاہراہ ریشم اور ون بیلٹ ون روڈ کا مرکزی مقام ہونے کے ناطے سماجی استحکام اقتصادی نشونما اور عوام الناس کا معیار زندگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔اس کا دارالحکومت ارومچی ہے ۔یہاں پر زمانہ قدیم سے متعدد ثقافت اور مذاہب کے لوگ ہم آہنگی سے بستے ہیں۔یہاں پر 56 علاقائی گروپ ہیں جن میں ویغور ، ہان ،قازخ، منگول ، ہوئی ، کرغز وغیرہ قومیت کے لوگ آباد ہیں ۔جب کہ ویغور مسلمان اکثریت میں ہیں ۔ شنجان کا صوبہ مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کے باعث بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز رہا ہے ۔گزشتہ چند دہائیوں سے مسلسل مغربی میڈیا پر شنجان سے متعلق گمراہ کن اور مبالغہ آمیز رپورٹس چلائی جا رہی ہیں۔ جن کا مقصد علیحدگی پسند گروپوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ شینجان میں امن و امان کی صورتحال کو بھی خراب کرنا ہے ۔مجھے بذات خود ایک سال پہلے شینجان کے دورے کا اتفاق ہوا جہاں بہت قریب سے وہاں کے حالات کا جائزہ لیا ۔شینجان میں 24 ہزار سے زیادہ مساجد ہیں۔عید کاہ مسجد کاشغر شینجان کی سب سے بڑی مسجد ہے۔اس مسجد کو تفصیل سے دیکھنے کا موقع ملا ۔وہاں نماز ادا کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ۔یہ مسجد 1442 میں تعمیر ہوئی تھی ۔ساڑھے پانچ سو سال سے زیادہ قدیم مسجد بہترین دیکھ بھال کی وجہ سے اپنی اصلی حالت میں قائم ہے ۔چینی حکومت خاص طور پر مسجد کی تزئین و آرائش اور دیکھ بھال کا اہتمام کرتی ہے۔مسجد کے امام صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ رمضان میں یہاں خصوصی طور پر تراویح کا اہتمام ہوتا ہے جب کہ نماز جمعہ اور عید کی نمازوں میں بھی شہریوں کی کثیر تعداد شرکت کرتی ہے۔یہ تو آنکھوں دیکھا حال تھا ۔میڈیا میں کچھ رپورٹس کے مطابق شینجان میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی نہیں انہیں روزہ رکھنے سے منع کیا جاتا ہے تراویح کا اہتمام نہیں ہوتا جبکہ کچھ رپورٹس تو ایسی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے اہم مذہبی مقامات اور مساجد کو منہدم اور مسمار کیا جا رہا ہے اس کے ثبوت کے طور پر کچھ فضائی ڈیجیٹل تصاویر دکھائی جاتی ہیں جس میں نقطوں کی شکل میں نقشے بتاتے ہیں کہ پہلے یہاں مساجد تھی اور اب انہیں منہدم کر دیا گیا ہے لیکن واضح ثبوت کے طور پر ان کے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں ۔یہ ڈیجیٹل فضائی نقشے تو کوئی بھی کمپیوٹر کے ذریعے بنا سکتا ہے ۔اس کے بارے میں تفصیل سے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں ۔مارچ 2025 میں حالیہ رمضان گزرا۔یوٹیوب پر شینجان کے بارے میں بے شمار ویڈیوز دیکھنے کو ملیں حیرت کی بات کے زیادہ تر یورپی اور امریکی وی لاگرز نے بنائی تھیں۔ یعنی مغربی گمراہ کن پروپیگنڈے کا جواب انہی کے اپنے وی لاگرز دے رہے ہیں ۔ایک برطانوی پی ایچ ڈی طالب علم نے ارومچی کی مسجد کے سامنے ویڈیو ریکارڈ کی جس میں لوگوں کو بڑی تعداد میں نماز پڑھتے دکھایا ہے۔ایک اور وی لاگر نے ارومچی میں قائم خصوصی رمضان بازار کی سیر کروائی۔جہاں مختلف سٹالز پر کھجوریں ، تسبیح ، ٹوپیاں اور رنگا رنگ کھانے ،پھل خشک میوہ جات سجے تھے۔اس بازار میں سروں پر رنگین ٹوپیاں پہنے ویغور مسلمان خریداری کرتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں۔اس بازار میں چہل پہل ، خریداروں کی رونق اس بات کی غماز ہے کہ رمضان کو کتنی خوشی اور آزادی سے منایا جا رہا ہے۔ایک اور وی لاگر نے افطار سے کچھ دیر پہلے کاشغر کی مسجد کے اندرونی مناظر دکھائے جہاں ایک ہال میں مرد اور خواتین افطار کا اہتمام کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ میزیں مزیدار کھانوں سے سجی ہیں۔روزے دار جوش و خروش سے افطاری کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ایک پاکستانی طالب علم نے کاشغر کی خوبصورت رپورٹ بنائی اور بتایا کہ تعلیم حاصل کرنے کے دوران اس سال اسے تراویح پڑھنے میں کوئی دقت نہیں ہوئی کیونکہ اس کے ہاسٹل کے نزدیک مسجد میں تراویح کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا تھا اس نے بتایا کہ رمضان کے لیے اس مسجد کو خوبصورت قالینوں اور جگمگ کرتے قمقموں سے سجایا گیا ہے ۔جہاں اس نے پورے رمضان باقاعدگی سے تراویح کی نماز ادا کی اور اس کے بعد نزدیک ہی رمضان بازار سے مزیدار کھانوں کا لطف بھی اٹھایا۔ایک اور وی لاگر نے رمضان بازار کا شغر کا دورہ کیا ۔جہاں دنبے اور گائے کے گوشت سے بنےسے بنے مزیدار تکے ، قیمے سے بھرے بند ، ڈمپلنگز ،نوڈلز اور تازہ پھلوں کے جوس ، خشک میوہ جات اور کھجوروں کے سٹال تھے ۔مسلمانوں کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ غیر مسلم چینی بھی رمضان میں ان بازاروں کا رخ کرتے دکھائی دیتے ہیں تاکہ ان مزیدار کھانوں سے لطف اٹھا سکیں۔ ایک اور غیر ملکی وی لاگر نے ارومچی میں رمضان میں ایک ویغور خاندان کے معمولات زندگی دکھائے ۔سحری کے وقت سے لے کر افطار تک لمحہ بہ لمحہ مصروفیت کو ریکارڈ کیا ۔مزیدار افطار کے بعد مقامی مسجد میں تراویح کی نماز اور پھر بازار سے خریداری ۔رمضان سے پہلے شینجان کی مساجد کو خاص طور پر رنگ و روغن سے آراستہ کیا جاتا ہے ۔نئے دبیز قالین بچھائے جاتے ہیں ۔مساجد میں چراغاں کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔موسم کے لحاظ سے اے سی اور ہیٹنگ کا انتظام ہوتا ہے تاکہ مقامی روزہ دار سہولت سے اپنے مذہبی فرائض سر انجام دے سکیں .رمضان کے اختتام پر عید کو بھی پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے .مسلمان صبح سویرے اٹھ جاتے ہیں گھروں اور بازاروں کو عید کے لیے خصوصی طور پر سجایا جاتا ہے .نئے کپڑے پہن کر مرد ، خواتین، بچے بزرگ سب مساجد کا رخ کرتے ہیں جہاں عید کی نماز کا اہتمام ہوتا ہے.اس سال بھی شینجان کی مساجد میں عید کی نماز کے بڑے بڑے اجتماعات ہوئے جن میں کثیر تعداد میں ویغور مسلمانوں نے شرکت کی ۔مساجد میں امام صاحب کا عید کا خطبہ سنا ۔نماز ادا کی ۔نماز کے بعد باہر نکل کر رنگین ٹوپیاں اور نئے لباس پہنے مرد خواتین بچے روایتی رقص کے ذریعے خوشی کا اظہار کرتے نظر آئے ۔جنہیں مختلف ولاگرز نے اپنی ویڈیوز کے ذریعے دکھایا۔خوشی سے دمکتے چہرے اس بات کے غماز دکھائی دیتے ہیں کہ انہوں نے سہولت اور آزادی کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے اور پھر عید کا تہوار منایا۔اس موقع پر بڑے اپنے چھوٹے بچوں کو عیدی دیتے نظر آئے ۔ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر عید کی مبارکباد دیتے دکھائی دیے۔کچھ ولاگرز نے عید کے معمولات پر بھی ویڈیوز بنائیں جس میں ویغور مسلمانوں کے گھر دکھائے جہاں رشتہ دار اکٹھے ہو کر عید کی خوشیاں منا رہے ہیں مزیدار کھانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں
کہیں بھی ایسی رپورٹ دیکھنے کو نہ ملی جہاں مسلمانوں کو روزہ رکھنے سے روکا جا رہا ہو یا مساجد کو بند کیا جا رہا ہو۔روشن چہروں مذہبی جذبات سے لبریز رمضان کو خوشی سے مناتے شینجان کے ویغور مسلمان ،جگمگاتی مساجد، فضاؤں میں گونجتی ایمان پرور اذانیں ، رمضان بازاروں کی رونق ، سحری اور تراویح کے اوقات میں روح پرور اجتماعات،عید کی نماز میں مسلمانوں کا جم غفیر ، عید کی خوشیاں مناتے لوگ میڈیا کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا جواب دیتے نظر آتے ہیں ۔
