ناز پروین
سعودی عرب نے اسلامی اخوت اور روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 30 پاکستانیوں کو رواں برس بطورِ مہمانِ خصوصی حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مدعو کیا . یہ اقدام خادمِ حرمین شریفین مہمان حج پروگرام کے تحت کیا گیا ۔حج پرواز سے ایک دن پہلے 27 مئی کو سعودی سفارتخانے نے اسلام آباد میں ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا جہاں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے منتخب پاکستانی عازمین کو سفری دستاویزات، ویزے اور احرام فراہم کیے۔
ان خوش قسمت افراد میں میں اور میرے شوہر امجد عزیز ملک بھی شامل تھے.
تقریب میں منتخب مہمانان حج اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔یہ پروگرام سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی خصوصی ہدایت پر ترتیب دیا گیا ۔جس کے تحت اسلامی سال 1446 ہجری میں دنیا بھر کے 100 سے زائد ممالک سے 1300 مرد اور خواتین کو حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مدعو کیا گیا.اس پروگرام کی نگرانی سعودی وزارت اسلامی اموردعوت و ارشاد کر رہی ہےجس کا مقصد عالم اسلام میں اتحاد و یگانگت کو فروغ دینااور سعودی عرب کی میزبانی کا مظاہرہ کرنا ہےاس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی سفیر نے کہا کہ یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سےاسلام کی خدمت اورمسلم ممالک سے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہےانہوں نے کہا کہ یہ پروگرام شاہ سلمان اور ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی رہنمائی میں ہر سال قابل قدر اور مستحق افراد کو حج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ترتیب دیا جاتا ہےانہوں نے مزید کہا کہ ہر سال منتخب عازمین کو حج کی ادائیگی کے لیے مکمل سفری رہائشی اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ انکا حج پرسکون اور روحانی طور پر اطمینان بخش ہو یہ تمام انتظامات سعودی وزارت اسلامی امور کی زیر نگرانی انجام دیے جاتے ہیں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا کہ یہ پروگرام سعودی ویژن 2030 کا حصہ ہےجس کا مقصد مملکت کو عالمی اسلامی قیادت میں نمایاں مقام دلانا اور انسانی خدمت کے میدان میں اس کا کردار مزید موثر بنانا ہےاس موقع پر پاکستانی عازمین نے سعودی حکومت اور قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے سعودی عرب کی عالم اسلام کے لیے خدمات کو سراہتے ہوئے سعودی سفیر نواف المالکی کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ رواں برس سعودی عرب نے فلسطین سے ایک ہزار عازمین حج کو مدعو کیا ہے جو مملکت سعودی عرب کی انسانی اور دینی خدمات کی عکاسی کرتا ہے۔ 15 روزہ حج کا یہ سفر ہر طرح سے یادگار رہا۔اسلام آباد ائرپورٹ سے روانگی سے لے کر 11 تاریخ کو واپسی کی فلائٹ تک ہر لمحہ سفارت خانے کا عملہ عازمین حج کے ساتھ رابطے میں رہا ۔لمحہ بہ لمحہ رہنمائی فراہم کرتا رہا اور جہاں جس ساتھی کو مشکل پیش آتی اسے فوراً حل کر دیا جاتا جیسے منیٰ میں ہمارے ایک بزرگ ساتھی راستہ بھول گئے انہوں نے گروپ کے ایڈمن کو اطلاع دی جنہوں نے فوراً تمام گروپ ممبرز کو الرٹ کیا اور تھوڑی ہی دیر میں گروپ ممبرز نے اپنے اس بزرگ ساتھی کو ڈھونڈ نکالا۔مکہ مکرمہ میں بہترین رہائش فراہم کی گئی ۔فلسطینیوں سمیت سو سے زائد مختلف ملکوں کے عازمین ایک ہی جگہ پر اکٹھے تھے جس سے اسلامی وحدت اور یگانگت کو فروغ مل رہا تھا۔سعودی حکومت نے صحیح معنوں میں میزبانی کا حق ادا کیا رہائش کھانے پینے طبی سہولتیں انتہائی اعلیٰ پیمانے پر فراہم کی گئیں۔ہوٹل کے باہر 24 گھنٹے بسیں حرم تک لے جانے کے لیے میسر تھیں۔عرفات مزدلفہ اور منیٰ ہر جگہ پر حجاج کرام کے آرام آسائش اور سہولت کا بھرپور خیال کیا گیا۔منیٰ میں جمرات سے ہمارے کیمپ کا فاصلہ چند منٹ کا تھا جس سے تینوں دن رمی کرنے میں بے حد آسانی رہی۔الحمدللہ حج کے تمام مناسک بھرپور طریقے سے پرسکون طریقے سے انجام دیے۔مدینہ منورہ کا سفر ایک روحانی سفر تھا۔تمام گروپ ممبرز ایک خاندان کی شکل اختیار کر گئے تھے ۔اس گروپ میں ہم چھ خواتین تھیں جنہیں ہر موقع پر بہت احترام دیا جاتا۔مدینہ کے سفر میں گروپ ممبران نعت شریف سناتے رہے روضہ رسول پر حاضری کے اسلوب سے آگاہ کرتے رہے۔رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات طیبہ سے روشناس کراتے رہے یوں یہ سفر ایک یادگار بن گیا ۔مدینہ میں بھی رہائش بے حد آرام دہ اور مسجد نبوی کے انتہائی قریب تھی ۔جس سے روضہ رسول پر حاضری اور مسجد نبوی میں نماز کی ادائیگی میں بے حد آسانی رہی ۔پورے سفر میں سعودی ناظمین گروپ ممبرز کا خیال رکھتے رہے اور انتہائی عزت اور احترام سے پیش آتے رہے۔اس تمام سفر میں سعودی سفارت خانے کے مدثر سلیم جوئیا گروپ ممبرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے مدینہ سے جدہ اور جدہ سے اسلام آباد پرواز کی آمد تک دن رات کی پرواہ کیے بغیر مسلسل گروپ ممبرز کو رہنمائی فراہم کرتے رہے ۔تمام گروپ ممبرز نے دل کی گہرائیوں سے سعودی حکومت اور سفیر جناب نواف المالکی کا شکریہ ادا کیا اور بہترین انتظامات پر خراج تحسین پیش کیا
چیئرمین مرکزی علماء کونسل پاکستان صاحبزادہ محمود قاسمی نےحج سیزن 2025 کی کامیابی پر حکومت سعودی عرب کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ
خادم الحرمين الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز ، شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں مملکت سعودی عرب مزید ترقی اور خوشحالی کی طرف گامزن ہے۔
مناسک حج کو محفوظ اور آسان بنانے اور حجاج کرام کو ہر طرح کی سہولت و خدمات کی فراہمی کیلئے تمام محکموں کی کاوشیں خراج تحسین کی مستحق ہیں۔
2025 کے لیے حکومت سعودی عرب نے حج انتظامات کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مقدس مقامات پر لاکھوں حجاج کو پانی، کھانا، رہائش، ٹرانسپورٹیشن اور صحت کی اعلیٰ خدمات فراہم کی گئیں۔ جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال سے حجاج کی سیفٹی اور آرام دہ ماحول میں مناسک کی ادائیگی کو یقینی بنایا گیا۔ سعودی حکومت نے حج سے فراغت کے فوری بعد عمرہ ویزہ دوبارہ شروع کرنے کا جو اعلان کیا ہے اس اعلان سے سعودی وزارت حج و عمرہ کا شاندار تشخص اجاگر ہوا ہے۔
پاکستان سے روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ کے تحت حجاج کرام کو بہترین سہولیات فراہم ہوئی ہیں جس میں پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی ، حکومت پاکستان اور وفاقی وزیر مذہبی سردار محمد یوسف کی خدمات قابل تحسین ہیں
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً
اشترك في نشرتنا الإلكترونية مجاناً.
Related Posts
اہم روابط
