پاکستان کے سٹرس کے کاشتکاروں، سائنس دانوں اور طلبہ نے ملک کے اہم زرعی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی تربیتی ورکشاپ میں شرکت کی۔
یہ ورکشاپ “Prospects of Climate Smart Citrus Production: Adaptive Strategies for a Changing World”کے عنوان سے یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد (UAF)میں 4 سے 5 فروری تک منعقد ہوئی۔
یہ تربیتی ورکشاپ مشترکہ طور پر انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچرل سائنسز، یو اے ایف اور *ہوازونگ ایگریکلچرل یونیورسٹی (HZAU)کے چین۔پاکستان ہارٹیکلچر ریسرچ اینڈ ڈیمانسٹریشن سینٹر، ووہان کے اشتراک سے منعقد کی گئی۔ یہ دوسرا سالانہ تربیتی پروگرام تھا، جو گزشتہ سال کی کامیاب ورکشاپ کے تسلسل میں منعقد کیا گیا اور اس کا مقصد پاکستان کی ترشاوہ پھلوں کی صنعت کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے کے لیے عملی اور جدید معلومات کا تبادلہ تھا۔
سٹرس پاکستان کی سب سے بڑی پھلوں کی فصل ہے، جس کی بدولت پاکستان دنیا میں پیداوار کے لحاظ سے 15واں اور برآمدات کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے۔ تاہم عالمی برآمدی منڈی میں پاکستان کا حصہ 1.3 فیصد سے بھی کم ہے، جس کے باعث اس شعبے میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ورکشاپ کے دوران منعقدہ ایک بڑی نمائش میں سٹرس کی 25 اقسام پیش کی گئیں، جن میں کینو، سنگترے اور گریپ فروٹ شامل تھے، جو پیداوار میں تنوع اور معیار میں بہتری کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
ورکشاپ کی ایک اہم ترجیح زرعی شعبے میں عملی مہارتوں کی منتقلی رہی۔ہوازونگ ایگریکلچرل یونیورسٹی کے پروفیسر لیو یونگ ژونگ نے مقامی کاشتکاروں کو جدید تراش خراش (پروننگ) کی تکنیکوں پر عملی تربیت فراہم کی، جن کا مقصد درختوں کی بہتر صحت اور سالانہ پیداوار میں اضافہ ہے۔انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ گزشتہ سال چین کی اعلیٰ معیار کی نو سٹرس اقسام پاکستان میں متعارف کرائی گئی تھیں، جن کی نرسری میں افزائش مکمل ہو چکی ہے اور انہیں آئندہ مون سون کے موسم میں کھیتوں میں منتقل کیا جائے گا۔
یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے چین کے ساتھ جاری تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے تعلیمی و تحقیقی تبادلے پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ترشاوہ پھلوں کے شعبے کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
یہ ورکشاپ دونوں جامعات کے درمیان پہلے سے طے شدہ متعدد معاہدوں کا تسلسل ہے، جن میں ووہان میں چین۔پاکستان ہارٹیکلچرل ڈیمانسٹریشن سینٹراور جرم پلازم (Germplasm) جدت پر مبنی مشترکہ لیبارٹری کا قیام بھی شامل ہے۔تحقیق، تربیت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ذریعے چین اور پاکستان خوراک کے تحفظ کو مضبوط بنانے، کسانوں کے روزگار میں بہتری اور خطے میں پائیدار زرعی ترقی کے فروغ کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں
