گوادر:گگوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) نے شہر کے 1.2 ملین گیلن یومیہ (ایم جی ڈی) ڈی سیلینیشن پلانٹ کے لیے ضروری کیمیکلز کی فراہمی کا ٹھیکہ مقامی کمپنی زباد پرائیویٹ لمیٹڈ کو دے دیا ہے، تاکہ اس اہم منصوبے کی بلا تعطل آپریشنل سرگرمیاں یقینی بنائی جا سکیں۔ یہ پلانٹ گوادر کے محفوظ پینے کے پانی کے نظام کا ایک بنیادی حصہ ہے۔
ذرائع کے مطابق زباد پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے تمام ضروری تقاضے پورے کیے جانے کے بعد، 13 فروری کو طے شدہ وقت اور مقررہ ایس او پیز کے تحت باضابطہ معاہدہ جاری کر دیا گیا۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم یہ ڈی سیلینیشن پلانٹ گوادر میں پانی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، خصوصاً 2025 میں مکمل بحالی کے بعد اس نے گزشتہ سال کے طویل خشک موسم کے دوران شہر میں پانی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اس منصوبے کو شہر کے یومیہ پانی کی ترسیل کے نیٹ ورک کا مستقل حصہ قرار دیتے ہوئے کم بارش کے ادوار میں پانی کی قلت سے بچاؤ کے لیے ایک اہم حفاظتی ذریعہ بھی قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق، گزشتہ سال مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سے پلانٹ کی پیداوار مسلسل برقرار ہے، جس کی عکاسی حالیہ اعداد و شمار سے ہوتی ہے، جن میں یکم جنوری کو 9 لاکھ 15 ہزار گیلن، 2 جنوری کو 5 لاکھ 35 ہزار گیلن اور 31 دسمبر کو 10 لاکھ 69 ہزار گیلن پانی کی پیداوار شامل ہے۔
سی پیک کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہ منصوبہ 4 دسمبر 2023 کو مکمل اور افتتاح کیا گیا، جبکہ اس کے نفاذ سے متعلق معاہدہ 5 جولائی 2021 کو طے پایا تھا۔ ویب سائٹ کے مطابق، چینی تعاون سے تعمیر کیے گئے اس منصوبے پر 12.7 ملین ڈالر لاگت آئی، جس کا مقصد روزانہ 12 لاکھ گیلن صاف پینے کا پانی گوادر شہر اور بندرگاہ کو فراہم کرنا ہے، تاکہ ڈیموں میں ذخیرہ شدہ پانی اور ٹینکروں کے ذریعے سپلائی پر دباؤ کم کیا جا سکے۔
پانی کے انتظام سے متعلق جی ڈی اے کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریورس اوسموسس پر مبنی یہ منصوبہ پرانے گوادر شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے میں “ریڑھ کی ہڈی” جیسا کردار ادا کر رہا ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پیدا ہونے والے بار بار کے خشک موسم کے دوران شہر کی صلاحیتِ برداشت میں بھی اضافہ کر رہا ہے۔
ادھر، منصوبے اور دیگر اہم تنصیبات کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکومتی اقدامات کے تحت وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے 4 دسمبر کو گوادر کے ڈی سیلینیشن پلانٹ اور پمپنگ اسٹیشنز کی سولرائزیشن کے منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ 132 کے وی گرڈ کی بہتری کے احکامات بھی جاری کیے تھے، تاکہ بندرگاہی شہر میں طویل عرصے سے درپیش بجلی اور پانی کے بحران پر قابو پایا جا سکے
