چترال: خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے ہندو کش پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع الگ تھلگ ثقافت رکھنے والے کالاش کی تین وادیوں کو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے ثقافتی ورثوں کی ابتدائی لسٹ میں شامل کر دیا ہے، جو محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق ایک بڑی کامیابی ہے۔
یونیسکو کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے درج ہے کہ کالاش کی تین وادیاں بمبوریت، بیریر اور رمبور پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے اس کی ثقافت کو محفوظ کیا گیا ہے۔
یونیسکو کے مطابق کالاشی کمیونٹی کی ایک دوسرے سے مضبوط تعلق، روایتی عقیدے کے نظام اور آس پاس کا ماحول اس کمیونٹی کو منفرد بناتا ہے، جس نے اپنی روایات و ثقافت کو بچایا ہے۔
اس کمیونٹی کے بارے میں یونیسکو نے مزید لکھا کہ یہاں عبادات کی جگہیں جیسے باترک جچ، غورم جچ، شاہی جچ اور ساجی گڑ موجود ہیں، جن میں یہاں کے لوگ مختلف مواقع پر اپنے تہوار مناتے ہیں۔
یونیسکو کے مطابق اس کمیونٹی نے اپنی روایات اور اطوار کو صدیوں سے زندہ رکھا ہوا ہے اور اسی وجہ سے یہ کمیونٹی اپنی نوعیت کی ایک منفرد کمیونٹی ہے جو آبادی کے علاقوں سے پہاڑی سلسلے تک پھیلی ہوئی ہیں۔

ان تین وادیوں میں 143 کلچرل سائٹس، مندر، ہالز اور مختلف رسومات کے لیے گراؤنڈز موجود ہیں اور اس قسم کی کمیونٹی اور آبادیاتی تصور دنیا میں بہت کم ملتے ہیں تاہم اس کا موازنہ آسٹریا میں وچاؤ کلچرل لینڈسکیپ کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح اس منفرد کمیونٹی کا موازنہ فلپائن کے علاقے کورڈیلیرس میں ایفوگاؤ کمیونٹی سے بھی کیا جا سکتا ہے، جن میں بہت سے رسومات اور رہن سہن کے طریقے ایک جیسے ہیں۔
کالاش وادی چترال کے مرکزی بازار سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے، جو تین وادیوں بمبوریت، بیریر اور رمبور پر مشتمل ہے، یہ پاکستان کی پرانی تہذیب سمجھی جاتی ہے جن کے اپنے رسم و رواج، زبان اور مختلف قسم کی طرز زندگی ہے۔
دسمبر میں ان کے بڑے مذہبی تہوار منعقد کیے جاتے ہیں جہاں پاکستان سمیت دنیا بھر سے سیاح اس وادی کا رخ کرتے ہیں، حکومت کی جانب سے کالاشی کلچر کو محفوظ بنانے کے لیے قانون سازی بھی ہوئی ہے۔
