تحریر: معیز فاروق
بیجنگ: حال ہی میں مجھے چین کی معروف سرکاری توانائی کمپنی چائنا داتانگ کارپوریشن لمیٹڈ کا دورہ کرنے کا موقع ملا، جہاں جدید توانائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، ماحولیاتی تحفظ اور سبز ترقی کے شعبوں میں ہونے والی غیر معمولی پیش رفت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ دورہ نہ صرف چین کے توانائی کے شعبے میں ہونے والی انقلابی تبدیلیوں کو سمجھنے کا ذریعہ بنا بلکہ اس بات کا بھی عملی ثبوت تھا کہ چین کس طرح توانائی کی فراہمی، ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی ترقی کے درمیان متوازن حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
29 دسمبر 2002 کو قائم ہونے والی چائنا داتانگ کارپوریشن آج چین کی سب سے بڑی ریاستی توانائی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 37 ارب یوآن کے رجسٹرڈ سرمایہ، تقریباً 982 ارب یوآن سے زائد اثاثوں اور 86 ہزار سے زیادہ ملازمین کے ساتھ یہ ادارہ چین کی توانائی سلامتی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ کمپنی کے کاروباری شعبوں میں بجلی کی پیداوار، کوئلہ اور کیمیکل صنعت، ماحولیات کا تحفظ، مالیاتی خدمات، لاجسٹکس، ہائیڈروجن توانائی، توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجیز اور دیگر ابھرتی ہوئی صنعتیں شامل ہیں۔

دورے کے دوران سب سے متاثر کن بات یہ تھی کہ 2025 کے اختتام تک کمپنی کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 214 گیگا واٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ صاف توانائی کا حصہ 51 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔ یہ کامیابی چین کے سبز ترقی کے وژن اور کاربن کے اخراج میں کمی کے عزم کی واضح عکاس ہے۔
ہمارا پہلا پڑاؤ گاؤجنگ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس تھا جو چائنا داتانگ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جنرل ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا حصہ ہے۔ یہ ادارہ توانائی کے شعبے میں تحقیق اور اختراع کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں جدید ترین لیبارٹریوں میں مقامی سطح پر تیار کی جانے والی ٹیکنالوجیز اور کنٹرول سسٹمز کا مشاہدہ کیا گیا جو چین کی تکنیکی خود انحصاری کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔
خصوصی طور پر نیو انرجی انڈسٹریل کنٹرول لیبارٹری میں تیار کیا گیا “ژوو شی” ونڈ ٹربائن کنٹرول سسٹم قابل ذکر ہے، جو سینکڑوں ونڈ ٹربائنز میں کامیابی سے استعمال ہو رہا ہے اور بین الاقوامی معیار کی کارکردگی کا حامل قرار دیا جا چکا ہے۔
اسی طرح پاور بگ ڈیٹا سینٹر میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبوں کی پیداوار کی پیش گوئی کی جاتی ہے۔ موسمیاتی، تکنیکی اور آپریشنل ڈیٹا کو یکجا کرکے قابل تجدید توانائی کی پیداوار کا درست اندازہ لگایا جاتا ہے، جس سے قومی گرڈ میں سبز توانائی کے مؤثر انضمام کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔

دورے کے دوران جدید روبوٹکس ٹیکنالوجی نے بھی بے حد متاثر کیا۔ پانی کے اندر کام کرنے والے روبوٹس، خودکار ڈرونز، چار ٹانگوں والے معائنہ کرنے والے روبوٹس اور ونڈ ٹربائنز کے معائنے کے لیے تیار کیا گیا چین کا پہلا وال کلائمبنگ روبوٹ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چائنا داتانگ کس طرح توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا رہی ہے۔ یہ نظام نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ میں مددگار ہیں بلکہ کام کی رفتار اور معیار کو بھی بہتر بناتے ہیں۔
یہ بات واضح طور پر محسوس ہوئی کہ چائنا داتانگ صرف بجلی پیدا کرنے والی کمپنی نہیں بلکہ ایک جدید، ذہین اور ڈیجیٹل توانائی نظام کی تعمیر میں مصروف ادارہ ہے۔
کمپنی کی جانب سے انسانی وسائل کی ترقی پر دی جانے والی توجہ بھی قابل تعریف ہے۔ چنگھوا یونیورسٹی اور ژی جیانگ یونیورسٹی سمیت متعدد اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے سینکڑوں انجینئرز اور محققین کو تربیت دی جا چکی ہے، جو مستقبل کے توانائی شعبے کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
دورے کا دوسرا مرحلہ داتانگ انٹرنیشنل گاؤجنگ گیس تھرمل پاور پلانٹ تھا جو بیجنگ کی توانائی اور سردیوں میں حرارتی ضروریات پوری کرنے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ پاور پلانٹ جدید گیس، اسٹیم کمبائنڈ سائیکل ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے جبکہ بند سرکولیٹری واٹر سسٹم کے ذریعے پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بناتا ہے۔ اس کے نتیجے میں روایتی کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کے مقابلے میں توانائی کا کم استعمال اور آلودگی میں نمایاں کمی ممکن ہوئی ہے۔
یہ جان کر حیرت ہوئی کہ چائنا داتانگ آج بیجنگ کی تقریباً نصف بجلی فراہم کر رہی ہے، یعنی دارالحکومت میں جلنے والی ہر دو بتیوں میں سے ایک کا تعلق داتانگ کی پیدا کردہ توانائی سے ہے۔
پلانٹ کا جدید مرکزی کنٹرول روم مکمل ڈیجیٹل نگرانی کے نظام سے لیس ہے جہاں بجلی کی پیداوار، ماحولیاتی اشاریوں اور حرارتی نیٹ ورک کے تمام اعداد و شمار حقیقی وقت میں مانیٹر کیے جاتے ہیں۔

اسی مقام پر قائم زیرو کاربن ہیٹنگ سینٹر بھی دورے کی اہم جھلکیوں میں شامل تھا۔ جدید ویسٹ ہیٹ ریکوری ٹیکنالوجی کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے دوران ضائع ہونے والی حرارت کو شہری آبادی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ہر سال لاکھوں مکعب میٹر قدرتی گیس کی بچت اور ہزاروں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی لائی جا رہی ہے۔
اس پورے دورے کے دوران ایک بات مسلسل نمایاں رہی کہ چائنا داتانگ کی ترقی کا ماڈل چین کے وسیع تر قومی وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ توانائی کی سلامتی، سبز ترقی، تکنیکی جدت اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو بیک وقت آگے بڑھانا اس ادارے کی بنیادی ترجیح ہے۔
چین کے اندر ونڈ، سولر، ہائیڈرو، تھرمل اور توانائی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں سے لے کر بیرون ملک متعدد ممالک میں توانائی کے انفراسٹرکچر کی تعمیر تک، چائنا داتانگ جدید چینی ٹیکنالوجی اور تجربے کو عالمی سطح پر متعارف کروا رہی ہے۔
میرے لیے یہ دورہ محض ایک کارپوریٹ ادارے کا مشاہدہ نہیں تھا بلکہ جدید چین کی ترقی، منصوبہ بندی اور اختراعی صلاحیتوں کو سمجھنے کا ایک منفرد موقع تھا۔ چائنا داتانگ اس حقیقت کا عملی مظہر ہے کہ جب طویل المدتی وژن، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی خدمت کا جذبہ یکجا ہو جائے تو توانائی کا شعبہ قومی ترقی کا سب سے مضبوط ستون بن سکتا ہے۔
جیسے جیسے چین جدیدیت اور سبز ترقی کے سفر میں آگے بڑھ رہا ہے، چائنا داتانگ جیسے ادارے نہ صرف ملکی توانائی ضروریات کو پورا کریں گے بلکہ عالمی ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرتے۔
