تحریر: معیز فاروق
نینگچی، چین: ایشیا پیسیفک کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے وفد کے ہمراہ نینگچی تبتی ہسپتال کا دورہ میرے لیے اس سفر کے یادگار ترین تجربات میں سے ایک تھا۔ یہ صرف ایک ہسپتال کا دورہ نہیں تھا بلکہ صدیوں پر محیط تبتی طب، اس کی روایات اور علاج کے منفرد انداز کو قریب سے جاننے کا ایک نادر موقع بھی تھا۔
ہسپتال پہنچتے ہی یہ احساس ہوا کہ یہ ادارہ صرف مریضوں کے علاج تک محدود نہیں بلکہ تبتی طب کے عظیم ورثے کو محفوظ رکھنے اور اسے نئی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔ ماہر ڈاکٹروں نے ہمیں تبتی طب کے بنیادی اصولوں سے آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ نظام جسم، ذہن اور فطرت کے درمیان توازن قائم رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔ قدرتی جڑی بوٹیوں، روایتی تشخیصی طریقوں اور صدیوں پرانے طبی علم کو آج بھی مؤثر انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

دورے کا سب سے دلچسپ حصہ وہ تھا جب صحافیوں کو مختلف روایتی تھراپیز کا خود تجربہ کرنے کا موقع ملا۔ وفد کے ارکان نے کپنگ تھراپی، آرام دہ فٹ مساج، یوگا پر مبنی صحت بخش مشقوں اور دیگر روایتی علاج سے استفادہ کیا۔ یہ تجربات نہ صرف انتہائی پرسکون اور خوشگوار تھے بلکہ انہوں نے تبتی طب کی افادیت اور اس کی مقبولیت کو بھی قریب سے محسوس کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ہم میں سے کئی صحافیوں کے لیے یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا، جس نے اس دورے کو مزید یادگار بنا دیا۔
ہسپتال کی جدید سہولیات، صفائی کا اعلیٰ معیار اور منظم انتظامات بھی بے حد متاثر کن تھے۔ جدید طبی آلات کے ساتھ ساتھ تبتی ثقافت اور روایتی طب کی جھلک ہر جگہ نمایاں نظر آتی تھی۔ ڈاکٹرز اور طبی عملے نے نہایت خندہ پیشانی سے ہر علاج اور طریقہ کار کی وضاحت کی، سوالات کے تفصیلی جواب دیے اور پورے دورے کے دوران مہمان نوازی کی بہترین مثال قائم کی۔

اس دورے نے واضح کیا کہ چین نے تبتی طب جیسے قدیم طبی ورثے کو نہ صرف محفوظ رکھا ہے بلکہ اسے جدید طبی نظام کے ساتھ کامیابی سے ہم آہنگ بھی کیا ہے۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ روایتی علم کو سائنسی انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔
میرے لیے یہ محض ایک ہسپتال کا دورہ نہیں تھا بلکہ شفا، ثقافت اور روایت کے ایک منفرد سفر کا تجربہ تھا۔ نینگچی تبتی ہسپتال نے یہ احساس دلایا کہ جدید طب کے ساتھ ساتھ صدیوں پرانے طبی علوم بھی آج کے دور میں انسانوں کی صحت، سکون اور بہتر زندگی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
