ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قطر ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکا سے بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ نہ بھولیں کہ اس سے پہلے جب ہم مذاکرات کر رہے تھے، ہمیں اس دوران دو بار امریکہ اور اسرائیل نے نشانہ بنایا، مذاکرات کے دوران ایران کی سفارت کاری تین بار سبوتاژ ہوئی۔
اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے ایک بار پھر امریکہ پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ’اس مفاہمت کی یادداشت میں کوئی ابہام نہیں ہے۔
بیان کے مطابق امریکہ نے جو کچھ کیا وہ اس معاہدے کی مختلف شقوں کی کھلی خلاف ورزی تھی اور تیسری بار اسی معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد سفارت کاری کے ذریعے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ مفاہمت کی یادداشت، جس پر خود امریکی صدر نے دستخط کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی 30روزہ ذمہ داری پوری کی مگر امریکا نے30 روز کی مدت ختم ہونے سے پہلے حملے کیے، امریکا نےمعاہدے کےتحت منجمد ایرانی اثاثے بھی جاری نہیں کیے۔
