تاریخ میں چاروں صوبوں کو آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت گورنر راج یا ایمر جنسی کا سامنا کرنا پڑا ہے، کبھی صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان ٹکراؤ اور کبھی امن وامان کی صورتحال کو جواز بنا کر گورنر راج لگایا گیا۔
ماضی میں خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ میں تین، تین بار اور بلوچستان میں چار بار گورنر راج نافذ کیا گیا جبکہ مشرقی پاکستان میں بھی دو بار گورنر راج لگایا گیا، کئی بار ایمر جنسی بھی نافذ کی گئی۔
گورنر راج نافذ ہونے کی صورت میں صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات محدود مدت کیلئے صدر یا ان کے نمائندے گورنر کے ذریعے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
گورنر راج نافذ ہونے کے بعد صوبائی اسمبلی کے اختیارات بھی پارلیمان کو منتقل کیے جا سکتے ہیں یعنی صوبائی معاملات سے متعلق قانون سازی وفاقی پارلیمان کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔
تاہم آئین واضح کرتا ہے کہ صوبے کی ہائیکورٹ کے اختیارات صدر، وفاقی حکومت یا گورنر کو منتقل نہیں کیے جا سکتے، دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔
اگر ایمر جنسی کے متعلق بات کریں تو 1954ء میں پہلی بڑی آئینی ایمرجنسی کا نفاذ ہوا، گورنر جنرل ملک غلام محمد نے 24 اکتوبر 1954ء کو پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا۔
اس وقت یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملک کو سیاسی بحران کا سامنا ہے اور آئینی مشینری مؤثر طور پر کام نہیں کر رہی، اس کے بعد مختلف ادوار میں ایمرجنسی کے آئین کا استعمال کیا گیا۔
