کنمنگ، چین: دسویں چین جنوبی ایشیا ایکسپو کا باقاعدہ افتتاح چین کے صوبہ یونان کے دارالحکومت کنمنگ میں ہو گیا، جہاں ایشیا اور دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کاروباری ادارے، پالیسی ساز، سرمایہ کار اور ماہرین ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔ اس سال ایکسپو کا موضوع “اتحاد و تعاون کے ذریعے مشترکہ ترقی” رکھا گیا ہے۔
11 سے 16 جون تک جاری رہنے والا یہ چھ روزہ بین الاقوامی میلہ چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایکسپو میں 68 ممالک، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 2300 سے زائد ادارے شریک ہیں جبکہ چین کے تمام صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی بھی نمائندگی موجود ہے۔
چین جنوبی ایشیا ایکسپو گزشتہ برسوں کے دوران علاقائی تعاون کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ ایکسپو کے آغاز کے بعد سے چین اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں تین گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے اور 2025 میں یہ پہلی مرتبہ 200 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ 2026 کے ابتدائی چار ماہ کے دوران بھی باہمی تجارت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس سال ایکسپو میں سروس ٹریڈ، گرین انرجی، جدید مینوفیکچرنگ، صحت، ثقافت و سیاحت، زراعت، کافی انڈسٹری اور بین الاقوامی تجارت سے متعلق خصوصی پویلین قائم کیے گئے ہیں۔ ایکسپو میں 1500 سے زائد پیشہ ور خریداروں نے رجسٹریشن کروائی ہے جن میں بیرون ملک سے آنے والے خریداروں کا تناسب 60 فیصد سے زائد ہے۔
جنوبی ایشیا پویلین ایکسپو کی نمایاں توجہ کا مرکز ہے جہاں جنوبی ایشیا کے تمام آٹھ ممالک کے 550 سے زائد ادارے اپنی مصنوعات، ثقافت اور کاروباری مواقع پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر پاکستان خصوصی سرگرمیوں کا انعقاد کر رہا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کو اس سال “کنٹری آف آنر” کا درجہ دیا گیا ہے۔
نمائش میں سبز توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ چین کی بڑی توانائی کمپنیاں قابل تجدید توانائی، سرحد پار بجلی کے منصوبوں اور گرین ڈویلپمنٹ کے جدید ماڈلز پیش کر رہی ہیں، جبکہ مینوفیکچرنگ کے شعبے سے وابستہ ادارے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تجارت اور جدید صنعتی ٹیکنالوجیز کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ایکسپو یونان صوبے کے اس کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے جو چین کو جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سے جوڑنے والے ایک اہم گیٹ وے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ کاروباری ملاقاتوں، ای کامرس تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع کے ذریعے علاقائی سپلائی چینز اور اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تجارت اور سرمایہ کاری کے علاوہ ایکسپو ثقافتی تبادلوں، سیاحتی سرگرمیوں، فوٹوگرافی نمائشوں، کھیلوں کے پروگراموں اور عوامی روابط کے فروغ کا بھی اہم ذریعہ بن رہا ہے، جو خطے کے ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور مشترکہ خوشحالی کے وژن کو مزید تقویت دیتا ہے۔
چین کی جانب سے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت اعلیٰ معیار کے تعاون اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ کے تناظر میں دسویں چین جنوبی ایشیا ایکسپو خطے کے ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی تعاون اور مشترکہ مستقبل کی ایک روشن مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔
