تحریر: معیز فاروق
بیجنگ: ایشیا پیسیفک کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز نے شِنہوا نیوز ایجنسی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایشیا پیسیفک میڈیا پارٹنرشپ پروگرام (APMP100) میں شرکت کی، جہاں انہیں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل میڈیا، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی غیر معمولی ترقی کا قریب سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔
22 سے 24 جولائی تک جاری رہنے والے اس پروگرام میں ایشیا پیسیفک خطے کے 32 میڈیا نمائندوں نے شرکت کی۔ پروگرام کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے دور میں مین اسٹریم میڈیا کی تبدیلی، ڈیجیٹل ابلاغ، اور مصنوعی ذہانت کے صحافت پر اثرات کا جائزہ لینا تھا۔
پروگرام کے پہلے روز کا موضوع “انٹیگریٹڈ میڈیا ٹرانسفارمیشن اینڈ پلیٹ فارم ایکو سسٹمز” تھا۔ افتتاحی تقریب کے بعد مختلف موضوعاتی لیکچرز، سوال و جواب کی نشستوں اور گروپ مباحثوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں اس بات پر تفصیلی گفتگو ہوئی کہ مصنوعی ذہانت اور نئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کس طرح عالمی میڈیا کی ساخت، خبروں کی تیاری اور قارئین سے رابطے کے انداز کو تبدیل کر رہی ہیں۔ ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال صحافت کے معیار، شفافیت اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہونا چاہیے۔

پہلے روز کا ایک اہم سیشن ریڈ نوٹ (Xiaohongshu) کے حوالے سے تھا، جہاں شرکاء کو بتایا گیا کہ یہ پلیٹ فارم چین میں ڈیجیٹل کمیونیکیشن، عوامی رابطے اور نوجوان نسل تک مؤثر انداز میں رسائی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ اس دوران مختلف ممالک سے آئے ہوئے صحافیوں نے اپنے تجربات بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے اور میڈیا کے مستقبل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
شرکاء کو خصوصی ٹاسک کارڈز بھی دیے گئے تاکہ وہ لیکچرز، انٹرویوز اور مشاہدات کی بنیاد پر اپنی رپورٹس، وی لاگز، سوشل میڈیا پوسٹس اور دیگر ملٹی میڈیا مواد تیار کر سکیں۔
پروگرام کے دوسرے روز شرکاء کو چین کی جدید صنعتی اور تکنیکی ترقی کا عملی مشاہدہ کرانے کے لیے مختلف اداروں کا دورہ کرایا گیا۔
سب سے پہلے وفد نے جے ڈی ڈاٹ کام (JD.com) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں کمپنی کے عالمی آپریشنز اور ڈیجیٹل جدت کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، اسمارٹ لاجسٹکس اور آٹومیشن کی مدد سے جے ڈی ڈاٹ کام نے ای کامرس کے شعبے میں ایک جدید اور مؤثر نظام قائم کیا ہے۔ گوداموں کے انتظام، سپلائی چین، آرڈر پروسیسنگ اور صارفین تک مصنوعات کی تیز رفتار ترسیل میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے شرکاء کو بے حد متاثر کیا۔
اس کے بعد وفد نے بیجنگ روبوٹکس انوویشن سینٹر، روبوٹ مال اور روبوٹ فلیم لیب 2.0 کا دورہ کیا، جہاں جدید ترین ذہین روبوٹس کی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔

یہاں صحت، تعلیم، صنعت، مہمان نوازی، سائنسی تحقیق اور عوامی خدمات کے لیے تیار کیے گئے مختلف روبوٹس کا مشاہدہ کیا گیا، جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے انسانوں کے ساتھ قدرتی انداز میں بات چیت کرنے، پیچیدہ صنعتی کام انجام دینے اور مختلف شعبوں میں خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دورے کے دوران شرکاء نے دیکھا کہ چین میں روبوٹکس صرف تجرباتی مرحلے تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی، صنعت اور معیشت کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ چین مستقبل کی معیشت کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر استوار کرنے کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
اے پی ایم پی 100 کے پہلے دو دنوں کی سرگرمیوں نے شرکاء کو اس بات کی جامع سمجھ فراہم کی کہ چین کس طرح میڈیا، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور اسمارٹ کامرس کو یکجا کر کے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک جدید ابلاغی اور تکنیکی نظام تشکیل دے رہا ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف پیشہ ورانہ تربیت کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوا بلکہ مختلف ممالک کے صحافیوں کے درمیان باہمی تعاون، تجربات کے تبادلے اور میڈیا روابط کو مزید مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
