لن ژی، چین: پانچواں چائنا ژی زانگ ٹرانس ہمالیہ بین الاقوامی تعاون فورم کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا، جہاں علاقائی تعاون، پائیدار ترقی اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
فورم کی اہم سرگرمیوں اور حاصل شدہ کامیابیوں سے متعلق تفصیلات ژی زانگ خودمختار علاقے کے نائب چیئرمین مسٹر ژاؤ پینگ نے اختتامی پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بیان کیں۔
ژی زانگ خودمختار علاقے کی عوامی حکومت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے اس فورم میں 29 ممالک، خطوں اور بین الاقوامی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 350 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ فورم کا مرکزی موضوع “انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی، ترقی اور تعاون کے ثمرات کی مشترکہ تقسیم” تھا۔
مسٹر ژاؤ پینگ نے کہا کہ یہ فورم گزشتہ چار کامیاب ایڈیشنز کی بنیاد پر مزید وسعت اختیار کر چکا ہے اور حکومتوں، ماہرین اور عالمی اداروں کے درمیان مشترکہ چیلنجز پر مؤثر تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم بن گیا ہے۔
فورم کے دوران چار اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی جن میں سطح مرتفع پر موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی تحفظ، سطح مرتفع کی ثقافتی سیاحت کا اعلیٰ معیار پر فروغ، سطح مرتفع کھیلوں میں تعاون، اور سطح مرتفع علاقوں میں سبز و صحت مند ترقی شامل ہیں۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ٹرانس ہمالیہ خطہ مشترکہ جغرافیہ، ثقافتی روابط اور قدرتی وسائل کا حامل ہے، اس لیے خطے کے عوام کی خوشحالی اور پائیدار ترقی کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔
نائب چیئرمین ژاؤ پینگ کے مطابق فورم میں نینگ چی انیشی ایٹو اور نینگ چی اتفاق رائے پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ ماحولیات کے تحفظ، سبز ترقی، سائنسی تعاون، ثقافتی تبادلوں اور پائیدار معاشی ترقی کے شعبوں میں اشتراک کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
کلیدی خطابات، گول میز مذاکروں، دو طرفہ ملاقاتوں اور موضوعاتی نشستوں کے ذریعے شرکاء نے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد عملی، طویل المدتی اور منصوبہ جاتی تعاون پر مبنی نتائج سامنے آئے۔
فورم کے دوران کئی اہم بین الاقوامی تعاون کے معاہدوں کا بھی اعلان کیا گیا۔
چین کی وزارت قدرتی وسائل کے نیشنل سیٹلائٹ ریموٹ سینسنگ ایپلی کیشن سینٹر اور کرغزستان کی ریاستی ایجنسی برائے زمینی وسائل، جیوڈیسی اور کارٹوگرافی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس کے تحت چین کے گاؤفن ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ ڈیٹا کو زمینی وسائل کے انتظام، سرحد پار قدرتی آفات کی نگرانی، زرعی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اسی طرح ژی زانگ اکیڈمی آف ایگریکلچرل اینڈ اینیمل ہسبنڈری سائنسز نے انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (ICIMOD) کے ساتھ اپنے تعاون کی تجدید کی، جس کا مقصد سطح مرتفع علاقوں میں زرعی تحقیق، ماحولیات کے تحفظ، دیہی ترقی اور سائنسی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
فورم میں چین نے اپنی “ارلی وارننگ فار آل” پہل بھی متعارف کرائی، جس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور عالمی سطح پر ابتدائی انتباہی نظام کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
صحت کے شعبے میں پلیٹو ڈیزیز پریونشن اینڈ ٹریٹمنٹ نیٹ ورک انفارمیشن پلیٹ فارم کا باضابطہ افتتاح کیا گیا، جس کے ذریعے ماہر ڈاکٹروں کی مدد سے بلند علاقوں میں پائی جانے والی بیماریوں کے علاج کے لیے فوری آن لائن طبی مشاورت ممکن ہوگی۔
فورم کے دوران اہم سفارتی پیش رفت بھی سامنے آئی۔ ژی زانگ خودمختار علاقے اور ارجنٹائن کے سالٹا صوبے کے درمیان دوستانہ صوبائی تعلقات قائم کرنے کے لیے لیٹر آف انٹینٹ پر دستخط کیے گئے، جبکہ شیگاتسے اور سالٹا شہر کے درمیان سسٹر سٹی تعلقات قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا، جس کے تحت نوجوانوں کے فٹبال تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
اسی سلسلے میں ارجنٹائن کے سان ہوزے ڈی لوس سیریوس اور شیگاتسے کے درمیان نوجوانوں کی فٹبال تربیت اور تبادلہ پروگرام کے لیے بھی معاہدہ کیا گیا، جس کا مقصد بلند علاقوں میں کھیلوں کی ترقی اور نوجوانوں کے درمیان روابط کو فروغ دینا ہے۔
عوامی روابط کے فروغ کے لیے ژی زانگ خودمختار علاقے کی پیپلز ایسوسی ایشن فار فرینڈشپ ود فارن کنٹریز نے کوریا چائنا فرینڈشپ ایسوسی ایشن اور چائنا مالدیپ کلچرل ایکسچینج ایسوسی ایشن کے ساتھ بھی دوستانہ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے۔ ان معاہدوں کے ذریعے ثقافت، تعلیم، سیاحت، نوجوانوں کے تبادلوں اور عوامی روابط کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر مسٹر ژاؤ پینگ نے کہا کہ گزشتہ پانچ ایڈیشنز کے دوران یہ فورم علاقائی مکالمے اور عملی تعاون کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے، جس نے باہمی اعتماد کو فروغ دینے اور خطے کے عوام کی فلاح و بہبود میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ژی زانگ خودمختار علاقہ مستقبل میں بھی شی جن پنگ کے سفارتی نظریے، ماحولیاتی تہذیب کے تصور، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو پر عمل کرتے ہوئے اس فورم کو علاقائی تعاون کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر جاری رکھے گا۔
مسٹر ژاؤ پینگ نے دنیا بھر کے ممالک، سرمایہ کاروں، ماہرین اور سیاحوں کو ژی زانگ آنے، سرمایہ کاری، کاروباری تعاون، ثقافتی تبادلوں اور سیاحت کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے ٹرانس ہمالیہ خطے میں سبز ترقی، خوشحالی اور مشترکہ مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
