میں نے آج پنگ شیانگ انٹیگریٹڈ فری ٹریڈ زون ڈیکلیریشن سینٹر کا دورہ کیا، اس کے ساتھ ساتھ یوئی گوان پورٹ اور پوزھائی پورٹ بھی گیا، جہاں مجھے اس بات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی کہ چین کس طرح آٹومیشن، اسمارٹ انفراسٹرکچر اور مربوط لاجسٹکس نظام کے ذریعے سرحد پار تجارت کو تبدیل کر رہا ہے۔ اس دورے نے مجھے ایک ایسے نظام کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا جو نہ صرف انتہائی مؤثر ہے بلکہ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے اس سطح پر پہنچ چکا ہے جو عالمی معیار قائم کر رہا ہے۔
گوانگشی ژوانگ خود مختار خطے میں واقع پنگ شیانگ چین کو ویتنام اور وسیع تر جنوب مشرقی ایشیا سے جوڑنے والے اہم ترین زمینی راستوں میں سے ایک ہے۔ بریفنگ کے دوران ایک اسٹریٹجک تجارتی راہداری کی وضاحت کی گئی جو نان ننگ، پنگ شیانگ اور ہنوئی کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ راستہ تجارت کے لیے ایک اہم شریان کی حیثیت رکھتا ہے جو چین کے اندرونی صنعتی مراکز کو ویتنامی منڈیوں سے نہایت مربوط اور مؤثر انداز میں جوڑتا ہے۔

اس نظام کا سب سے نمایاں پہلو ڈرائیور لیس کنٹینر ٹرانسپورٹ کا استعمال ہے۔ روایتی لاجسٹکس کے برعکس جہاں ڈرائیورز کو سرحد عبور کرنا پڑتی ہے، یہاں خودکار اور بغیر ڈرائیور کے ٹرکس سامان کو چین ویتنام سرحد کے آر پار منتقل کرتے ہیں۔ اپنے دورے کے دوران میں نے نہ صرف ان ڈرائیور لیس ٹرکس کو عملی طور پر کام کرتے دیکھا بلکہ مجھے خود ان میں سوار ہونے کا بھی موقع ملا۔ یہ ایک انتہائی متاثر کن اور ہموار تجربہ تھا جو اس نظام کی درستگی، حفاظت اور ٹیکنالوجی کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان بغیر ڈرائیور گاڑیوں کی ہم آہنگی اور قابل اعتماد کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ لاجسٹکس کے شعبے میں جدت کس حد تک آگے بڑھ چکی ہے اور یہ مستقبل کے انفراسٹرکچر کی ایک مضبوط مثال پیش کرتی ہے۔
اس دورے کی ایک بڑی جھلک فوجائی اسمارٹ پورٹ منصوبہ تھا جو جدید اور ذہین بندرگاہی ترقی کی نئی مثال ہے۔ یہ منصوبہ تقریباً 202 مو یعنی لگ بھگ 13.5 ہیکٹر رقبے پر محیط ہے اور اس پر تقریباً 760 ملین یوان کی لاگت آئی ہے۔ اس کا مقصد جدید ڈیجیٹل نظام کو فزیکل انفراسٹرکچر کے ساتھ یکجا کر کے ایک نہایت مؤثر اور ذہین لاجسٹکس ماحول تشکیل دینا ہے۔

اس منصوبے کے مرکز میں 2.4 کلومیٹر طویل خودکار ٹرانسپورٹ چینل ہے جس میں متعدد آنے اور جانے والی لینز شامل ہیں، جنہیں ریل سسٹم، پلوں اور مخصوص لاجسٹکس راہداریوں کی مدد حاصل ہے۔ یہ انفراسٹرکچر بغیر انسانی مداخلت کے مسلسل سامان کی نقل و حرکت کو ممکن بناتا ہے، جس سے تاخیر میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسی طرح ایک مرکزی کمانڈ اور ڈسپیچ پلیٹ فارم پورے نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم لاجسٹکس، کسٹمز اور انسپیکشن کے عمل کو ایک مربوط فریم ورک میں شامل کرتا ہے، جس سے حقیقی وقت میں نگرانی اور ہم آہنگی ممکن ہوتی ہے۔ یہ چین اور ویتنام کے درمیان محفوظ اور مؤثر ڈیٹا کے تبادلے کو بھی یقینی بناتا ہے، جس سے معلومات کی روانی بہتر ہوتی ہے اور شفافیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اسمارٹ کلیئرنس نظام بھی اس پورے عمل کو مزید مؤثر بناتا ہے۔ خودکار انسپیکشن اور نگرانی کی ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف انسانی محنت پر انحصار کم کیا گیا ہے بلکہ کسٹمز کے عمل کی رفتار اور درستگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ یہ مکمل طور پر ڈیجیٹل سرحدی نظام کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔
اس نظام کی ایک اور نمایاں خصوصیت دوہرا چوبیس گھنٹے آپریشنل ماڈل ہے۔ اس کے تحت بغیر رکے کلیئرنس ممکن ہے جس سے سامان کی مسلسل پروسیسنگ جاری رہتی ہے۔ ساتھ ہی یہ نظام اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ نان ننگ کے صنعتی علاقوں سے سامان 24 گھنٹوں کے اندر ویتنام کے صنعتی پارکس تک پہنچ جائے، جس سے سپلائی چین کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

یوئی گوان پورٹ اور پوزھائی پورٹ اس پورے نظام کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ یوئی گوان پورٹ ایک اہم بین الاقوامی زمینی گیٹ وے کے طور پر بڑے پیمانے پر کارگو کو سنبھالتا ہے، جبکہ پوزھائی پورٹ علاقائی اور تجارتی سرگرمیوں، خاص طور پر صارفین کی اشیاء کی تجارت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دونوں مل کر ایک متوازن اور جامع تجارتی نظام تشکیل دیتے ہیں۔

مجموعی طور پر، پنگ شیانگ انٹیگریٹڈ فری ٹریڈ زون اور اس سے منسلک بندرگاہوں کا میرا دورہ نہایت معلوماتی اور متاثر کن رہا۔ ڈرائیور لیس ٹرانسپورٹ نظام کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا اور اس کا خود تجربہ کرنا اس دورے کا ایک منفرد پہلو تھا، جس نے جدید ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کو واضح کیا۔ اسمارٹ لاجسٹکس، خودکار نظام اور چوبیس گھنٹے آپریشنز کا یہ امتزاج نہ صرف چین ویتنام روابط کو مضبوط بناتا ہے بلکہ عالمی تجارت اور لاجسٹکس کے مستقبل کے لیے ایک واضح معیار بھی قائم کرتا ہے۔
رپورٹ از: معیز فاروق
ایگزیکٹو ایڈیٹر
پاکستان اکنامک نیٹ ورک اور ڈیلی اتحاد میڈیا گروپ
