لِنگ شان، گوانگ شی: گوانگ شی ژوانگ خودمختار خطے میں واقع پِنگ لو کینال کے ماڈاؤ حب کے دورے کے دوران مجھے چین کے ان عظیم ترین انفراسٹرکچر منصوبوں میں سے ایک کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جو نہ صرف جدید انجینئرنگ کا شاہکار ہے بلکہ علاقائی روابط، معاشی ترقی اور مستقبل کی تجارت کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
پِنگ لو کینال کو جدید چین کے اہم ترین آبی منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تقریباً 134 کلومیٹر طویل یہ کینال دریائے شی جیانگ کے نظام کو براہ راست بیبو خلیج سے جوڑے گی، جس کے نتیجے میں مغربی چین کو سمندری راستوں تک مختصر اور مؤثر رسائی حاصل ہوگی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد اندرونِ ملک صنعتی مراکز کو عالمی منڈیوں سے زیادہ تیزی اور کم لاگت کے ساتھ منسلک کرنا ہے، جس سے نہ صرف چین بلکہ پورے خطے میں تجارت کو فروغ ملے گا۔
پِنگ لو کینال کے تین بڑے نیوی گیشن حب ہیں جن میں ماڈاؤ حب سب سے بڑا اور تکنیکی اعتبار سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس حب کو اس انداز سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ کینال کے مختلف حصوں میں پانی کی سطح کے فرق کو مؤثر انداز میں منظم کر سکے اور بڑے بحری جہازوں کی روانی کو یقینی بنا سکے۔ منصوبے کے انجینئرز کے مطابق ماڈاؤ، چی شی اور چِنگ نیان حب مل کر پورے آبی راستے کے نظام کو متوازن اور فعال بنائیں گے۔
ماڈاؤ حب کا سب سے نمایاں پہلو اس کا جدید شپ لاک سسٹم ہے۔ تقریباً 300 میٹر لمبا اور 34 میٹر چوڑا یہ شپ لاک دنیا کے سب سے بڑے پانی بچانے والے اندرونی آبی شپ لاکس میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی گنجائش 5,000 ٹن تک وزنی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دیتی ہے، جو اس منصوبے کی وسعت اور اہمیت کو مزید واضح کرتی ہے۔
دورے کے دوران مجھے اس بات نے بے حد متاثر کیا کہ اس منصوبے میں جدید انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ ماڈاؤ حب میں استعمال ہونے والا جدید واٹر سیونگ سسٹم لاک آپریشن کے دوران پانی کے بڑے حصے کو دوبارہ استعمال کے قابل بناتا ہے، جس سے آبی وسائل کے ضیاع میں نمایاں کمی آتی ہے۔ یہ امر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ چین ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم رکھنے کی سنجیدہ کوشش کر رہا ہے۔
تعمیراتی مقام پر موجود وسیع و عریض کنکریٹ ڈھانچے، جدید مشینری اور انجینئرز و کارکنان کی منظم ٹیمیں اس منصوبے کی پیچیدگی اور اہمیت کو بخوبی ظاہر کرتی ہیں۔ ہر مرحلے پر اعلیٰ معیار اور تکنیکی مہارت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا، جو چین کی تعمیراتی صلاحیتوں اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے۔
حکام کے مطابق پِنگ لو کینال "نیو انٹرنیشنل لینڈ سی ٹریڈ کوریڈور” کا ایک اہم جزو ہے، جس کا مقصد مغربی چین کو عالمی تجارتی راستوں سے مزید مؤثر انداز میں جوڑنا ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد سامان کی ترسیل کے کئی روایتی راستے تقریباً 560 کلومیٹر تک مختصر ہو جائیں گے، جس سے نقل و حمل کے اخراجات میں کمی اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اس منصوبے کی اہمیت صرف چین تک محدود نہیں بلکہ یہ جنوب مشرقی ایشیا اور آسیان ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط کو بھی مزید مضبوط بنائے گا۔ بہتر لاجسٹکس، کم لاگت اور تیز تر ترسیل کے ذریعے یہ کینال خطے میں اقتصادی تعاون اور باہمی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گی۔
ماڈاؤ حب کا دورہ کرتے ہوئے یہ احساس مزید مضبوط ہوا کہ یہ منصوبہ صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ مستقبل کی معاشی ترقی، علاقائی روابط اور جدید انفراسٹرکچر کی علامت ہے۔ یہ منصوبہ اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت چین طویل المدتی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
پِنگ لو کینال کی تکمیل کے بعد ماڈاؤ حب یقیناً چین کی جدید انجینئرنگ تاریخ کا ایک نمایاں سنگ میل ثابت ہوگا اور آنے والی دہائیوں میں علاقائی ترقی اور عالمی تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
تحریر: معیز فاروق
