بیجنگ (پاکستان اکنامک نیٹ): چائنا کمیونیکیشن یونیورسٹی (CUC) نے چائنا انٹرنیشنل پریس کمیونیکیشن سینٹر (CIPCC) کے تعاون سے ’’گلوبل سیولائزیشن انیشی ایٹو کے تحت میڈیا کا مشن: بین الاقوامی یومِ مکالمہ بین التہذیب کے حوالے سے چائنا کمیونیکیشن یونیورسٹی ڈائیلاگ‘‘ کے عنوان سے ایک اہم بین الاقوامی مکالمے کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں ایشیا پیسیفک، افریقہ اور یوریشیا کے پچاس سے زائد ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے ساتھ ساتھ چینی ماہرین تعلیم، ابلاغیات کے ماہرین اور وزارت خارجہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔
یہ مکالمہ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی یومِ مکالمہ بین التہذیب کے تناظر میں منعقد کیا گیا، جس کا مقصد باہمی افہام و تفہیم کے فروغ، ثقافتی تبادلوں کو وسعت دینے اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے میں میڈیا کے کلیدی کردار کو اجاگر کرنا تھا۔ اس تقریب نے اس بڑھتے ہوئے عالمی شعور کی عکاسی کی کہ تہذیبوں کے درمیان مکالمہ امن، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے حصول کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

چائنا کمیونیکیشن یونیورسٹی کے نائب صدر رین مینگ شان نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ تہذیبوں کے درمیان مکالمہ دوستی کا پل، ترقی کی محرک قوت اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دنیا میں امن کی مضبوط بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی، پیچیدہ جغرافیائی سیاسی حالات اور بدلتے ہوئے عالمی ابلاغی ماحول کے درمیان میڈیا کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے تاکہ مختلف اقوام اور ثقافتوں کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دیا جا سکے، تعصبات کا خاتمہ کیا جا سکے اور تعمیری مکالمے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
رین مینگ شان نے جدید دور کے میڈیا کے تین بنیادی فرائض پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو مختلف تہذیبوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوئے ثقافتی تنوع کو غیر جانبدارانہ اور حقائق پر مبنی انداز میں پیش کرنا چاہیے تاکہ باہمی احترام اور قدردانی کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیا کو ماحولیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت کی حکمرانی اور صحت عامہ جیسے عالمی چیلنجز پر تعمیری مکالمے کے ذریعے عالمی اتفاق رائے پیدا کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ مزید برآں صحافیوں کو سچائی کے محافظ بن کر پیشہ ورانہ اصولوں، حقائق پر مبنی رپورٹنگ اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا ہوگا۔
مذاکرے کے دوران ذمہ دار صحافت کے ذریعے تہذیبی تعصبات کے خاتمے، ڈیجیٹل دور میں بین الاقوامی ابلاغ کو مؤثر بنانے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بین الثقافتی روابط کو فروغ دینے اور نوجوان صحافیوں کو عوامی سطح پر روابط بڑھانے کے لیے بااختیار بنانے جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ایتھوپیا، زیمبیا، روس، قازقستان اور چین سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور صحافیوں نے مختلف سیشنز میں اپنے تجربات اور خیالات کا تبادلہ کیا۔

بین الاقوامی مقررین میں تھائی لینڈ کی نیشنل براڈکاسٹنگ سروس (NBT) کی نیوز اینکر اور جین تھائی نیوز کی خصوصی نامہ نگار ینگ مانینات اونپانا نے صحافیوں کے کردار کو مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان ایک پل قرار دیا۔ مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت معلومات کی تخلیق، ترجمے اور ترسیل کے طریقوں کو تبدیل کر رہی ہے، تاہم ابلاغ کی اصل روح انسانی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ اخلاقیات میں مضمر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صحافیوں کو سچائی کے فروغ، غلط معلومات کے تدارک اور مختلف ثقافتوں کے درمیان باہمی فہم کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھنا چاہیے۔
میٹرو ٹی وی انڈونیشیا کی صحافی نادیہ آیو سورایا نے جدید صحافت میں بڑھتے ہوئے عالمی ربط پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کے عالمگیر دور میں مقامی نوعیت کی خبریں بھی بین الاقوامی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔ انہوں نے انڈونیشیا کی پارلیمنٹ کی کوریج کے اپنے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر بین الاقوامی ابلاغ کے لیے مقامی حقائق کو عالمی تناظر سے جوڑنا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق پائیدار ترقی، اقتصادی شراکت داری، جمہوری طرز حکمرانی اور سماجی ترقی جیسے موضوعات قومی سرحدوں سے بالاتر ہو چکے ہیں اور میڈیا کو مختلف معاشروں کے درمیان رابطے اور باہمی اعتماد کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

ایتھوپین براڈکاسٹنگ سروس (EBS TV Worldwide) کے سینئر صحافی، پروگرام پروڈیوسر اور میزبان، نیز چائنا کمیونیکیشن یونیورسٹی کے سابق طالب علم گیٹاہون اسفا تیسیما نے تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے فروغ اور دیرینہ منفی تصورات کو چیلنج کرنے میں سرحدوں سے ماورا میڈیا کی ذمہ داری پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ تجربات اور چائنا کمیونیکیشن یونیورسٹی میں کی جانے والی علمی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ابلاغ یک طرفہ بیانیے کے بجائے سننے، باہمی احترام اور مشترکہ کہانی سنانے کے اصولوں پر استوار ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا مختلف معاشروں کے درمیان اعتماد سازی، مقامی آوازوں کو اجاگر کرنے اور لوگوں کو جوڑنے والی کہانیوں کو فروغ دینے میں منفرد کردار ادا کر سکتا ہے۔
اعلیٰ تعلیمی اداروں کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر رین مینگ شان نے صحافت اور ابلاغیات کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے چائنا کمیونیکیشن یونیورسٹی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی عالمی شراکت داریوں کے قیام، بین الثقافتی ابلاغ پر تحقیق کے فروغ اور ایسے نوجوان میڈیا پروفیشنلز کی تربیت کے لیے کوشاں ہے جو عالمی وژن، پیشہ ورانہ مہارت اور ثقافتی حساسیت کے حامل ہوں۔

رین مینگ شان نے مزید کہا کہ چائنا کمیونیکیشن یونیورسٹی مستقبل میں دنیا بھر کے میڈیا اداروں کے ساتھ مشترکہ رپورٹس، سرحد پار انٹرویوز، صلاحیت سازی کے پروگرامز اور علمی تبادلوں کے ذریعے تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مؤثر بین الاقوامی ابلاغ صرف معلومات کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ خیالات کے تبادلے، ایک دوسرے کو سننے اور مشترکہ فہم پیدا کرنے کا عمل ہے۔
تقریب کے اختتام پر بین الاقوامی صحافیوں کو چائنا کمیونیکیشن یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کا دورہ کروایا گیا، جس میں انسٹی ٹیوٹ فار اے کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر اور کمیونیکیشن میوزیم آف چائنا شامل تھے۔ اس موقع پر شرکاء کو چین میں ابلاغی تعلیم اور تحقیق کے میدان میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
مقررین اور شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں میڈیا مختلف تہذیبوں کو قریب لانے، باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور پرامن بقائے باہمی کے قیام میں ایک مؤثر قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ شرکاء نے ذمہ دار صحافت کے فروغ اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا تاکہ ایک زیادہ جامع اور باہم مربوط عالمی برادری کی تشکیل ممکن ہو سکے۔
رپورٹ:
معیز فاروق
ایگزیکٹو ایڈیٹر، پاکستان اکنامک نیٹ اور ڈیلی اتحاد میڈیا گروپ
