تحریر: معیز فاروق
ایگزیکٹو ایڈیٹر، روزنامہ اتحاد میڈیا گروپ اور پاکستان اکنامک نیٹ
چھِن ژو، گوانگ شی : چین کے شہر چھِن ژو کے دورے کے دوران جن مقامات کو دیکھنے کا موقع ملا، ان میں چین، ملائیشیا چھِن ژو انڈسٹریل پارک کی ایڈمنسٹریٹو کمیٹی کا دورہ میرے لیے خاص طور پر یادگار رہا۔ عام طور پر صنعتی پارکس کا تصور فیکٹریوں اور پیداواری یونٹس تک محدود سمجھا جاتا ہے، لیکن اس دورے نے یہ احساس دلایا کہ ایسے منصوبے محض صنعتوں کے مراکز نہیں ہوتے بلکہ یہ مشترکہ ترقی، علاقائی روابط اور بین الاقوامی تعاون کے عملی نمونے بھی ہوتے ہیں۔
چین اور ملائیشیا کی حکومتوں کے مشترکہ تعاون سے 2012 میں قائم ہونے والا چین، ملائیشیا چھِن ژو انڈسٹریل پارک منفرد “دو ممالک، دو صنعتی پارکس” ماڈل کا ایک اہم حصہ ہے، جبکہ اس کا دوسرا پارک ملائیشیا کے شہر کوانتان میں قائم ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک میں ایسے صنعتی مراکز قائم کرنا ہے جو سرمایہ کاری کو فروغ دیں، تجارت میں اضافہ کریں اور کاروباری اداروں کو سرحدوں سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے مواقع فراہم کریں۔
ایڈمنسٹریٹو کمیٹی کے حکام نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی میں یہ پارک چین، آسیان تعاون کے نمایاں ترین منصوبوں میں شمار ہونے لگا ہے۔ آج یہاں جدید مینوفیکچرنگ، الیکٹرانک انفارمیشن، بایومیڈیسن، نئی توانائی، نئے مٹیریلز، جدید لاجسٹکس اور حلال صنعت سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر کن بات یہ تھی کہ ہر شعبے کی ترقی کے پیچھے ایک واضح، مربوط اور طویل المدتی حکمت عملی موجود ہے۔
اعداد و شمار بھی اس کامیابی کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔ 2024 کے اختتام تک اس پارک میں 345 منصوبے قائم ہو چکے تھے، صنعتی پیداوار 106 ارب یوآن سے تجاوز کر چکی تھی، غیر ملکی تجارت کا حجم 45 ارب یوآن سے زیادہ رہا، جبکہ تقریباً 822 ملین امریکی ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری یہاں استعمال کی جا چکی تھی۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ کئی برسوں کی مسلسل منصوبہ بندی، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مؤثر حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔
اس پارک کی ایک اور نمایاں خصوصیت چھِن ژو بندرگاہ سے اس کا براہ راست رابطہ ہے۔ چھِن ژو اور ملائیشیا کی کوانتان بندرگاہ کے درمیان قائم براہ راست شپنگ روٹ کے ذریعے اب سامان صرف تین سے چار دن میں ایک بندرگاہ سے دوسری بندرگاہ پہنچ جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف لاجسٹکس کے نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے بلکہ چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان تجارتی روابط بھی مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ یہ اس بات کی عملی مثال ہے کہ جدید انفراسٹرکچر اور مؤثر منصوبہ بندی کس طرح وقت اور لاگت دونوں میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔
دورے کے دوران جس پہلو نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ ایڈمنسٹریٹو کمیٹی کا کردار تھا۔ یہ ادارہ صرف پارک کے انتظام تک محدود نہیں بلکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے، کاروباری اداروں کی رہنمائی کرنے اور ایسا ماحول فراہم کرنے میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہا ہے جہاں صنعتیں آسانی سے ترقی کر سکیں۔ یہ چین کے اس وسیع تر ترقیاتی ماڈل کی عکاسی کرتا ہے جس میں جدید انفراسٹرکچر کو مؤثر طرز حکمرانی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کی حیثیت سے میرے ذہن میں بار بار چین، پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا خیال آتا رہا۔ پاکستان اب صنعتی ترقی، قدر میں اضافے پر مبنی پیداوار اور برآمدات پر مبنی معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں چین، ملائیشیا چھِن ژو انڈسٹریل پارک کا تجربہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر مؤثر منصوبہ بندی، مضبوط ادارے اور طویل المدتی وژن موجود ہو تو صنعتی پارکس صرف فیکٹریوں کا مجموعہ نہیں رہتے بلکہ وہ قومی اقتصادی ترقی کے طاقتور محرک بن سکتے ہیں۔
پارک کا دورہ کرتے ہوئے اور اس کے سفر کے بارے میں جان کر ایک اہم حقیقت مزید واضح ہوئی کہ صنعتی ترقی کسی ایک دن یا چند برسوں میں حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے واضح وژن، مستقل مزاجی، مؤثر پالیسی سازی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہوتا ہے۔ چین، ملائیشیا چھِن ژو انڈسٹریل پارک اس بات کی بہترین مثال ہے کہ دو ممالک کس طرح مشترکہ منصوبہ بندی کے ذریعے نہ صرف اپنی اقتصادی ترقی کو فروغ دے سکتے ہیں بلکہ پورے خطے میں تجارت، صنعتی تعاون، علاقائی روابط اور مشترکہ خوشحالی کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
اگر یہ رپورٹ روزنامہ اتحاد میں صفحہ اول یا بین الاقوامی صفحے کے لیے شائع ہونی ہے، تو میں اسے مزید صحافتی انداز میں، کم بیانیہ اور زیادہ نیوز فیچر اسٹائل میں بھی ڈھال سکتا ہوں، جیسا کہ آپ کی چین سے متعلق دیگر رپورٹس ہوتی ہیں۔
