تحریر:معیز فاروق
ایگزیکٹو ایڈیٹر، پاکستان اکنامک نیٹ ورک و ڈیلی اتحاد میڈیا گروپ
بیجنگ: مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی تیز رفتار ترقی نے دنیا کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا ہے، جہاں وہ تصورات جو کبھی سائنس فکشن کا حصہ سمجھے جاتے تھے، آج حقیقت کا روپ دھارتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس حقیقت کا عملی مشاہدہ ایشیا پیسیفک اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے وفد نے بیجنگ روبوٹکس انوویشن سینٹر کے دورے کے دوران کیا، جہاں جدید ترین انسانی شکل کے روبوٹس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی نے حاضرین کو حیرت زدہ کر دیا۔
بیجنگ روبوٹکس انوویشن سینٹر چین کے نمایاں تحقیقی و تکنیکی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت سے لیس جدید روبوٹس کی تیاری، تحقیق اور جدت پر کام جاری ہے۔ اس ادارے میں جامعات، تحقیقی مراکز، انجینئرز اور ٹیکنالوجی کمپنیاں مشترکہ طور پر ایسے ذہین روبوٹس تیار کر رہی ہیں جو مستقبل میں صنعت، صحت، تعلیم، لاجسٹکس اور روزمرہ زندگی کے متعدد شعبوں میں انسانوں کے معاون ثابت ہوں گے۔

دورے کا سب سے دلکش اور یادگار لمحہ وہ تھا جب انسانی شکل کے روبوٹس نے انتہائی مہارت، توازن اور ہم آہنگی کے ساتھ رقص پیش کیا۔ ان کی حرکات اس قدر قدرتی اور منظم تھیں کہ ایک لمحے کے لیے یہ احساس پیدا ہوا جیسے انسان نہیں بلکہ روبوٹس فن کا مظاہرہ کر رہے ہوں۔ یہ منظر مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں ہونے والی غیر معمولی پیش رفت کی عملی جھلک تھا۔
صحافیوں نے ایسے گھریلو معاون روبوٹس بھی دیکھے جو مستقبل میں صفائی، اشیاء کی منتقلی اور دیگر روزمرہ گھریلو ذمہ داریوں میں انسانوں کا ہاتھ بٹانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک نمونہ ریستوران میں روبوٹس کو مہمانوں کو کھانا پیش کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ ان کی رفتار، درستگی اور منظم انداز نے واضح کیا کہ مستقبل قریب میں ہوٹل اور ریسٹورنٹ کی صنعت میں بھی روبوٹکس کا کردار نمایاں ہو سکتا ہے۔
دورے کے دوران روبوٹ ڈاگ نے بھی خصوصی توجہ حاصل کی۔ یہ ذہین مشین نہ صرف مختلف سطحوں پر باآسانی چلنے اور دوڑنے کی صلاحیت رکھتی تھی بلکہ رکاوٹوں سے بچتے ہوئے فوری ردعمل کا بھی مظاہرہ کر رہی تھی۔ ماہرین کے مطابق ایسے روبوٹ سیکیورٹی، صنعتی معائنوں، قدرتی آفات کے دوران امدادی کارروائیوں اور دیگر حساس شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تاہم سب سے منفرد اور دلچسپ منظر انسانی شکل کے روبوٹس کا فٹبال میچ تھا۔ روبوٹس کو گیند کے تعاقب، ایک دوسرے کو پاس دینے، دفاع کرنے اور گول کرنے کی کوشش کرتے دیکھنا ایک غیر معمولی تجربہ تھا۔ اس مظاہرے نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹک وژن، توازن اور خودکار فیصلہ سازی کی ٹیکنالوجی کس تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
مرکز میں مختلف روبوٹس کو انسانوں سے گفتگو کرتے، اشیاء کی شناخت کرتے، خود مختار انداز میں راستہ تلاش کرتے اور پیچیدہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ ان تمام عملی مظاہروں نے اس امر کو اجاگر کیا کہ چین مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبے میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری اور تحقیق کر رہا ہے۔

بیجنگ روبوٹکس انوویشن سینٹر کا دورہ محض جدید مشینوں کی نمائش نہیں تھا بلکہ یہ چین کے اس وژن کی عکاسی بھی کرتا ہے جس کے تحت مصنوعی ذہانت کو صنعتی ترقی، اقتصادی نمو اور عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
ایشیا پیسیفک اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے لیے یہ دورہ ایک منفرد اور یادگار تجربہ ثابت ہوا۔ اس نے نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز صلاحیتوں سے روشناس کرایا بلکہ یہ احساس بھی اجاگر کیا کہ روبوٹکس کا مستقبل ابھی آنے والا نہیں، بلکہ اس کا آغاز ہو چکا ہے، اور چین اس عالمی تبدیلی کی قیادت کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے۔
