چین کے معروف زرعی ادارے واڈا ماڈرن ایگریکلچرل ٹیکنالوجی لمیٹڈ کے حالیہ دورے کے دوران جدید زرعی ترقی، ٹیکنالوجی اور دیہی خوشحالی کا ایک منفرد ماڈل دیکھنے کو ملا۔ 2014 میں قائم ہونے والی اس کمپنی نے مختصر عرصے میں خود کو چین کی جدید زرعی صنعت کے ایک نمایاں ادارے کے طور پر منوایا ہے، جہاں سائنس، ٹیکنالوجی اور پائیدار زرعی نظام کو یکجا کرکے اعلیٰ معیار کے ٹماٹر پیدا کیے جا رہے ہیں۔
واڈا کی کامیابی کی بنیاد اس کا معیار اور پائیداری پر مبنی نظام ہے۔ یہاں اگائے جانے والے ٹماٹر اپنی منفرد ذائقے، معیار اور غذائیت کے باعث چین بھر میں مقبول ہیں۔ کمپنی نامیاتی کھاد استعمال کرتی ہے جبکہ جدید اور معیاری کاشتکاری طریقہ کار کو اپنایا گیا ہے تاکہ ہر فصل یکساں معیار کی حامل ہو۔ کمپنی نے اپنے مخصوص بیج بھی تیار کیے ہیں، خصوصاً وہ اقسام جو جدید گرین ہاؤسز میں اگائی جاتی ہیں۔ کمپنی کے مطابق تقریباً ستر فیصد کامیابی بیجوں کی تحقیق اور بریڈنگ کی وجہ سے ہے جبکہ باقی کامیابی معیاری کاشتکاری طریقہ کار کا نتیجہ ہے۔
کمپنی کا دائرہ کار بھی انتہائی متاثر کن ہے۔ شہر بھر میں دو ہزار سے زائد گرین ہاؤسز قائم کیے گئے ہیں جہاں جدید زرعی نظام کے تحت پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔ رواں سال کمپنی اپنی پیداوار کو بڑھا کر چالیس سے پچاس ہزار کلوگرام تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم اس تمام ترقی کے باوجود کمپنی کا بنیادی مقصد صرف مالی منافع نہیں بلکہ معاشرتی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی ہے۔
کمپنی کے سربراہ مسٹر لو کا کہنا تھا کہ زراعت کو صرف کاروبار یا مالی فائدے کی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اصل کامیابی یہ ہے کہ کسان خوشحال ہوں، لوگوں کو معیاری خوراک میسر آئے اور دیہی معیشت مضبوط ہو۔ اسی وژن کے تحت کمپنی نے ایک ایسا اشتراکی ماڈل متعارف کرایا ہے جس میں مقامی کسان مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ کمپنی کسانوں کو بیج، تکنیکی معاونت اور جدید زرعی رہنمائی فراہم کرتی ہے جبکہ کسان ٹماٹر کی پیداوار پر توجہ دیتے ہیں۔ اس پورے عمل سے حاصل ہونے والا منافع مختلف شراکت داروں میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ سب کو فائدہ پہنچ سکے۔
گزشتہ دس برسوں میں واڈا نے مقامی کسانوں کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ متعدد کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا اور وہ جدید زرعی نظام کا حصہ بنے۔ یہ منصوبہ چین کی قومی پالیسیوں، خصوصاً غربت کے خاتمے اور دیہی ترقی کے وژن سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ مقامی افراد کی شمولیت اور حکومتی پالیسیوں کی رہنمائی نے اس ماڈل کو مزید کامیاب بنایا ہے۔
واڈا کے پریمیم ٹماٹرز کی مانگ چین کے بڑے شہروں خصوصاً Shanghai، Nanjing اور Hangzhou میں تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں متوسط طبقہ اعلیٰ معیار کی خوراک کو ترجیح دیتا ہے۔ کمپنی کے مطابق لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری کے ساتھ صحت مند اور معیاری زرعی مصنوعات کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس نے اس صنعت کے لیے نئی راہیں کھولی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی فی الحال بیرون ملک برآمدات پر زیادہ توجہ نہیں دے رہی۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر سے لوگ چین آئیں، فارم دیکھیں اور اس جدید زرعی ماڈل کا تجربہ کریں۔ تاہم مستقبل میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت بین الاقوامی تعاون کے امکانات موجود ہیں اور کمپنی اس حوالے سے حکومتی پالیسیوں کے مطابق آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
واڈا صرف ایک زرعی کمپنی نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی اور صنعتی نظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے، جہاں تحقیق، پیداوار، تقسیم اور دیہی ترقی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوں۔ یہ ماڈل نہ صرف اعلیٰ معیار کی پیداوار کو یقینی بناتا ہے بلکہ زرعی معیشت کو بھی زیادہ مضبوط، پائیدار اور جامع بناتا ہے۔
یہ دورہ اس حقیقت کا عکاس تھا کہ چین میں جدید زراعت اب صرف کھیتی باڑی تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ٹیکنالوجی، سماجی ترقی اور قومی وژن کا امتزاج بن چکی ہے۔ واڈا ماڈرن ایگریکلچرل ٹیکنالوجی لمیٹڈ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ جدید زرعی جدت کس طرح نہ صرف معیشت بلکہ معاشرے کو بھی مثبت انداز میں تبدیل کر سکتی ہے۔
