چین کے شہر چِنژو (اتحاد): چِنژو میں واقع بیبو گلف پورٹ چین کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کے طور پر تیزی سے ابھر رہا ہے اور تجارت، لاجسٹکس اور علاقائی رابطہ کاری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ حالیہ دورے کے دوران بین الاقوامی صحافیوں اور میڈیا نمائندگان کو بندرگاہ کی سرگرمیوں، جدید انفراسٹرکچر اور عالمی منڈیوں کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط میں اس کے کردار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
گوانگ شی ژوانگ خودمختار خطے میں واقع بیبو گلف پورٹ مغربی چین کو جنوب مشرقی ایشیا اور دنیا کے دیگر اہم تجارتی مراکز سے جوڑنے والا ایک اسٹریٹجک مرکز ہے۔ جدید انفراسٹرکچر، ڈیجیٹلائزیشن اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے باعث حالیہ برسوں میں بندرگاہ نے نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔

دورے کے دوران شرکاء نے کنٹینرز کی ہینڈلنگ کے وسیع انتظامات، جدید لاجسٹکس نظام اور دیگر سہولیات کا مشاہدہ کیا۔ حکام نے بتایا کہ بیبو گلف پورٹ اب نیو انٹرنیشنل لینڈ سی ٹریڈ کوریڈور کا ایک اہم جزو بن چکا ہے، جس کی بدولت چین کے اندرونی صوبوں اور بین الاقوامی منڈیوں کے درمیان اشیاء کی ترسیل زیادہ تیز اور مؤثر انداز میں ممکن ہو رہی ہے۔
بیبو گلف پورٹ کی نمایاں خصوصیات میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔ خودکار نظام اور اسمارٹ پورٹ سلوشنز نے بندرگاہ کی آپریشنل استعداد میں اضافہ کیا ہے جبکہ سامان کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ کے اوقات میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ان اقدامات نے جنوبی چین میں اس بندرگاہ کی حیثیت کو ایک بڑے لاجسٹکس مرکز کے طور پر مزید مضبوط بنایا ہے۔

اس دورے نے چین کی جانب سے علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دینے اور بین الاقوامی تجارتی تعاون کو وسعت دینے کی وسیع تر کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ ماہرین کے مطابق عالمی سپلائی چینز کے مسلسل ارتقا کے تناظر میں بیبو گلف پورٹ جیسے مراکز تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ میں مزید اہم کردار ادا کریں گے۔
بیبو گلف پورٹ کا بڑھتا ہوا حجم، جدید سہولیات اور ترقی یافتہ نظام چین کی انفراسٹرکچر کی تعمیر اور اقتصادی انضمام پر مسلسل توجہ کا مظہر ہیں، جو اسے ایشیا پیسفک خطے میں تجارت اور رابطہ کاری کے ایک اہم محرک کے طور پر نمایاں کرتے ہیں۔
رپورٹ: معیز فاروق
ایگزیکٹو ایڈیٹر، پاکستان اکنامک نیٹ اور روزنامہ اتحاد میڈیا
