تحریر: معز فاروق
ایگزیکٹو ایڈیٹر، پاکستان اکنامک نیٹ اور ڈیلی اتحاد میڈیا گروپ
نینگچی، ژی زانگ: ایشیا پیسفک ممالک سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے ایک وفد کے ہمراہ ژی زانگ کے خوبصورت علاقے نینگچی میں واقع گالاکُن ولیج کا دورہ کرنے کا موقع ملا، جہاں قریب سے یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ کس طرح ایک چھوٹا سا دیہی گاؤں ماحولیات کے تحفظ، ثقافتی ورثے کے فروغ اور پائیدار ترقی کی ایک کامیاب مثال بن چکا ہے۔
نینگچی شہر سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گالاکُن ولیج میں صرف 33 زرعی اور مویشی پالنے والے گھرانے آباد ہیں، جن کی مجموعی آبادی 149 افراد پر مشتمل ہے۔ اپنی چھوٹی آبادی کے باوجود یہ گاؤں ماڈل ولیج، ایکو ولیج اور سیاحتی گاؤں کے طور پر قومی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ہر سال بہار کے موسم میں یہاں موجود ایک ہزار 253 جنگلی آڑو کے درخت جب پھولوں سے لد جاتے ہیں تو پورا علاقہ گلابی رنگ میں ڈھک جاتا ہے، جس کی وجہ سے گالاکُن کو “چین کا نمبر ون پیچ بلاسم ولیج” بھی کہا جاتا ہے۔
سال 2021 میں چینی صدر شی جن پنگ نے اس گاؤں کا دورہ کیا تھا، جس نے اس علاقے کو مزید اہمیت دی۔ ان کا یہ دورہ دیہی ترقی، عوامی خوشحالی اور ماحول دوست ترقی کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جسے چین گزشتہ کئی برسوں سے عملی شکل دے رہا ہے۔ آج گاؤں میں نظر آنے والی ترقی واضح کرتی ہے کہ یہ وژن صرف پالیسیوں تک محدود نہیں بلکہ عملی طور پر عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا چکا ہے۔

دورے کے دوران میری ملاقات گاؤں کے سربراہ سے ہوئی، جنہوں نے گالاکُن کی ترقی کی دلچسپ داستان بیان کی۔ ان کے مطابق ماضی میں یہاں کے رہائشیوں کا زیادہ تر انحصار لکڑی کاٹنے، جنگلاتی پیداوار جمع کرنے اور جنگلی آڑو فروخت کرنے پر تھا۔ اگرچہ یہاں کے آڑو ذائقے میں بہترین تھے، لیکن ان کی تجارتی اہمیت نہ ہونے کے برابر تھی اور ایک ٹوکری صرف 13 سے 14 یوآن میں فروخت ہوتی تھی۔ اس وجہ سے لوگوں کی آمدنی انتہائی محدود تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اصل تبدیلی اس وقت آئی جب گاؤں نے قدرتی وسائل کے بے جا استعمال کے بجائے ماحولیات کے تحفظ کو ترجیح دی۔ کئی نسلوں نے جنگلات اور قدرتی حسن کی حفاظت کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج یہی قدرتی وسائل گاؤں کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن چکے ہیں۔ ان کے بقول، “ماضی اور آج کے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔”
آج پیچ بلاسم اسپرنگ سینک ایریا گاؤں کی معیشت کی بنیاد بن چکا ہے۔ سیاحت نے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں بلکہ مقامی افراد ٹرانسپورٹ، زراعت اور مویشی بانی کے ذریعے بھی بہتر آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ یوں ماحولیات کا تحفظ اب معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن چکا ہے۔
اعداد و شمار بھی اس ترقی کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔ سال 2024 میں گاؤں کی مجموعی دیہی معیشت کی آمدنی 14.02 ملین یوآن تک پہنچ گئی، جبکہ فی کس قابل استعمال آمدنی 41 ہزار 200 یوآن ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح گاؤں کی اجتماعی معیشت کی آمدنی 70 لاکھ یوآن سے تجاوز کر گئی۔

چینی حکومت نے گاؤں کی مزید ترقی کے لیے 30 ملین یوآن سے زائد کی سرمایہ کاری بھی کی، جس کے تحت یونٹی پویلین نمائش ہال اور پیچ بلاسم اسپرنگ سینک ایریا کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔ ان منصوبوں کا مقصد صرف سیاحت کو فروغ دینا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ہے کہ ترقی کے ثمرات براہ راست مقامی آبادی تک پہنچیں۔
گالاکُن ولیج کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا ثقافتی ورثہ ہے۔ یہاں آنے والے سیاح گھڑ سواری، یاک کی سواری، تیر اندازی، روایتی سیٹی نما تیر چلانے، روایتی پتھر اٹھانے جیسے ثقافتی کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ گاؤں کے سربراہ کے مطابق یہ سرگرمیاں نہ صرف سیاحوں کو نینگچی کی تاریخ اور ثقافت سے روشناس کراتی ہیں بلکہ نئی نسل تک اپنی روایات منتقل کرنے کا بھی مؤثر ذریعہ ہیں۔
مجھے سب سے زیادہ جس چیز نے متاثر کیا وہ یہاں کے لوگوں کا اعتماد، خوش اخلاقی اور اپنی ثقافت پر فخر تھا۔ مقامی افراد نے ترقی کو اپنایا ہے، مگر اپنی روایات، ماحول اور قدرتی حسن کو محفوظ رکھتے ہوئے۔

گالاکُن ولیج چینی صدر شی جن پنگ کے اس وژن کی عملی تصویر پیش کرتا ہے کہ “صاف پانی اور سرسبز پہاڑ ہی حقیقی دولت ہیں۔” یہ گاؤں اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ترقی، ماحولیات کے تحفظ اور عوامی فلاح کو یکجا کر دیا جائے تو چھوٹے سے چھوٹے دیہی علاقے بھی خوشحالی کی نئی مثال قائم کر سکتے ہیں۔
ایشیا پیسفک ممالک سے آنے والے صحافیوں کے لیے گالاکُن ولیج صرف ایک خوبصورت سیاحتی مقام نہیں تھا بلکہ یہ اس بات کا عملی مظہر تھا کہ دور اندیش قیادت، مؤثر حکومتی پالیسیاں اور مقامی آبادی کی محنت مل کر پائیدار ترقی اور مشترکہ خوشحالی کا ایک کامیاب ماڈل تشکیل دے سکتی ہیں۔
