گوادر : گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی(جی ڈی اے) نےگوادر میں پانی کی فراہمی کے نظام کو موثر اور مستحکم رکھنے کے لیےپینے کے پانی کا نیا نظام متعارف کرا دیا ہے۔23 فروری کو ڈائریکٹر جنرل جی ڈی اے معین الرحمٰن خان کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والےواٹر کمیٹی اجلاس میں نئی حکمتِ عملی کے تحت گوادر میں غیر قانونی پانی کنکشنز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، پراجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میر جان بلوچ، ایگزیکٹو انجینئر ڈسٹری بیوشن محمد اکبر، سیکرٹری واٹر کمیٹی بابر خان اور اسسٹنٹ انجینئر قمبر بلوچ نے شرکت کی۔ اجلاس میں گوادر شہر میں پانی کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ پسنی سے متعلق امور پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ شادی کور ڈیم سے گوادر تک بچھائی گئی جی ڈی اے کی مرکزی پائپ لائن بنیادی طور پر گوادر شہرکو پانی کی فراہمی کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے، اور اس کی گنجائش صرف گوادر کی ضروریات کے مطابق ہے۔
اجلاس میں شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی تقسیم کے نظام کو درپیش تکنیکی مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا اور جہاں ضرورت ہو نئی پائپ لائنز بچھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایگزیکٹو انجینئر ڈسٹری بیوشن کو ہدایت دی گئی کہ وہ فوری طور پر ضروری مقامات پر نئی لائنوں کی تنصیب یقینی بنائیں اور مرکزی پائپ لائنوں سے غیر قانونی کنکشنز اور پانی چوری کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی کو مزید مؤثر اور تیز کریں۔
نئے پانی کنکشنز کے اجرا اور باقاعدہ بلنگ سسٹم کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ نئے کنکشنز کی تنصیب کا عمل جاری ہے اور صارفین کا مکمل ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے تاکہ جلد از جلد بلنگ سسٹم فعال کیا جا سکے۔
مزید یہ فیصلہ کیا گیا کہ شہر بھر میں پانی کی فراہمی جی ڈی اے کی نئی بچھائی گئی پائپ لائنوں اور تعمیر شدہ واٹر اسٹوریج ٹینکس کے ذریعے کی جائے گی، کیونکہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کا پرانا نظام اب فرسودہ اور غیر فعال ہو چکا ہے، جس سے پانی کے ضیاع کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
اجلاس میں مزید وضاحت کی گئی کہ پسنی شہر کو پانی کی فراہمی کی ذمہ داری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ (پی ایچ ای) پر عائد ہوتی ہے۔ پی ایچ ای کے پاس ڈیم سے پسنی تک مکمل علیحدہ پائپ لائن موجود نہیں ہے اور تقریباً 18 کلومیٹر پائپ لائن ابھی تک زیرِ تکمیل ہے۔ نتیجتاً، پی ایچ ای آبپاشی محکمے کی واٹر چینل اور جی ڈی اے کی پائپ لائن پر انحصار کرتا ہے۔ تاہم، محدود گنجائش اور گوادر کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی، جی ڈی اے دستیاب وسائل کے مطابق پسنی کو پانی کی فراہمی جاری رکھے گا۔
