اسلام آباد :وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے بدھ کو چائنا انرجی انجینئرنگ کارپوریشن (سی ای ای سی) پاکستان کے نو قائم شدہ ریجنل ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وزارت منصوبہ بندی کے اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔وفاقی وزیر کا استقبال سی ای ای سی کے منیجنگ ڈائریکٹر وانگ ہوئی ہوا، سینئر ایڈوائزر ڈاکٹر حسن دائود بٹ اور دیگر اعلیٰ نمائندگان نے کیا۔ یہ دورہ چینی سپرنگ فیسٹیول اور لینٹرن فیسٹیول کی تقریبات کے موقع پر کیا گیا۔
بریفنگ کے دوران منیجنگ ڈائریکٹر نے چائنہ انرجی انجینئرنگ کوآپریشن کے چین-پاکستان اقتصادی راہداری میں کلیدی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی سکھی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تکمیل اور آزاد پتن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر جاری کام سمیت متعدد منصوبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ای ای سی نے سی پیک کے تحت بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کا ایک بڑا حصہ مکمل کیا ہے جو پاکستان کی توانائی سلامتی اور پائیدار معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وانگ ہوئی ہوانے اس بات پر زور دیا کہ سی ای ای سی کا پاکستان ہیڈکوارٹر، جو مکمل طور پر کمپنی کی سرمایہ کاری سے تعمیر کیا گیا ہے، پاکستان کے مستقبل پر کمپنی کے اعتماد کا مظہر ہے اور مقامی شراکت داری اور ترقی کے لیے اس کے طویل المدتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔وفاقی وزیر احسن اقبال نے سی ای ای سی کی مسلسل سرمایہ کاری اور سٹریٹجک تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی موجودگی پاکستان-چین دوستی کو ظاہر کرتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے 75 سال اور سی پیک تعاون کے 13 سال مکمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی سبز اور پائیدار توانائی کی جانب منتقلی میں چینی تعاون کو سراہا اور جاری ہائیڈرو پاور منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پائیدار معاشی ترقی کے فروغ اور چینی شراکت داروں کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے لیے متحرک اور ہمہ جہتی حکمتِ عملیوں پر عمل پیرا ہے جن میں نئی پالیسی اصلاحات اور ساختی اقدامات شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے ’’اڑان پاکستان‘‘ پروگرام کے تحت معاشی ترقی کے واضح اہداف مقرر کیے ہیں جن میں توانائی کے شعبے کی ترقی ایک اہم ستون ہے۔دورے کے دوران پر سی ای ای سی پاکستان کے ریجنل دفتر کا باضابطہ افتتاح کیا گیا جس کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے اور پاکستان کے طویل المدتی ترقیاتی اہداف کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

