چین کے مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ فو چھونگ نے 18 مارچ کو ، شام سے متعلق سلامتی کونسل کے کھلے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام کے حالات پر بات کرتے وقت خطے کی مجموعی صورتحال کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک خطرناک کھائی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے جس پر چین کو شدید تشویش ہے۔ جنگ کا طویل ہونا مقامی عوام کے لیے مزید مشکلات اور مصائب کا باعث بنے گا اور خطے اور عالمی معیشت پر اس کے شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ فو چھونگ نے کہا کہ چین فوری طور پر جنگ بندی، آگ کو مزید پھیلنے سے روکنے اور جلد از جلد مذاکرات کی راہ پر واپس آنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ چین امن کے حصول کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
