چین کی وزارت خارجہ نے چینی وفد کے "جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے” کی گیارہویں جائزہ کانفرنس کی پہلی مرکزی کمیٹی میں عمومی بیان جاری کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ موجودہ دور میں بین الاقوامی سلامتی کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور تیزی سے بدل رہی ہے ، جس سے جوہری پھیلاؤ کے خلاف اقدامات کے ماحول میں شدید خرابی آئی ہے۔ چند بڑی جوہری طاقتیں اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کو بے دریغ روند رہی ہیں، ہر طرف جنگوں کا آغاز کر رہی ہیں ، بلاک سیاست کو ہوا دے رہی ہیں، اور بین الاقوامی و علاقائی ہتھیاروں کی دوڑ کے خطرات کو بڑھا رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جائزہ کانفرنس کو مذکورہ مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، تمام فریقوں کو معقول اور حقیقت پسندانہ رویے کی طرف واپس آنے کی ترغیب دینی چاہیے، اور جوہری پھیلاؤ کے خلاف اقدامات کے عمل کو درست راستے پر واپس لانا چاہیے۔ چین کے موقف کی تفصیل یوں ہے ۔
پہلا، "عالمی اسٹریٹجک استحکام کے تحفظ” اور "تمام ممالک کی سلامتی میں کمی نہ ہونے” کے اہم اصولوں کے اتفاق رائے پر قائم رہنا، اور جوہری پھیلاؤ کے خلاف اقدامات کو مرحلہ وار آگے بڑھانا۔
دوسرا، بین الاقوامی سلامتی اور عالمی اسٹریٹجک استحکام کا تحفظ۔ متعلقہ ممالک سے مطالبہ ہے کہ وہ عالمی اسٹریٹجک استحکام کو نقصان پہنچانے والے اینٹی میزائل سسٹمز کی ترقی اور تعیناتی کو روکیں۔
تیسرا، جوہری جنگ کو روکنے کے لیے تمام ممالک کی مشترکہ مرضی کو مضبوط بنانا، خاص طور پر غیر جوہری ممالک کو سلامتی کی ضمانتیں دینے پر زیادہ توجہ دینا۔
چوتھا، جوہری شفافیت کو معقول انداز میں دیکھنا۔ جوہری ہتھیاروں والے ممالک کو قومی سلامتی کو نقصان پہنچائے بغیر، رضاکارانہ اور مساویانہ اصولوں کی بنیاد پر جوہری شفافیت کے اقدامات پر بات چیت کرنی چاہیے تاکہ اسٹریٹجک باہمی اعتماد میں اضافہ ہو سکے۔ "جوہری اشتراک” کے انتظام میں حصہ لینے والے غیر جوہری ممالک کو بھی شفافیت کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
چینی وفد نے اس جائزہ عمل میں جوہری پھیلاؤ کے خلاف اقدامات کے معاملے پر اپنی پالیسی اور موقف کی تفصیل کے لیے متعدد دستاویزات بھی جمع کروائی ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ چین عملی اقدامات کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے بین الاقوامی کنٹرول کے نظام کا تحفظ جاری رکھے گا اور معاہدے کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ڈالے گا۔
