نیو یارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقدہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی گیارہویں جائزہ کانفرنس میں چین نے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاملے پر دوہرے معیارات کا اطلاق کر رہے ہیں اور معاہدوں کی اتھارٹی اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی کے نظام کو کمزور کر رہے ہیں۔ چین نے حالیہ برسوں میں جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر جاپان کے منفی اقدامات کا بھی خاص طور پر ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اس حوالے سے انتہائی چوکنا رہنا چاہیے۔
چین کے سفیر برائے امور تخفیف اسلحہ ، شین جیئن نے کانفرنس میں کہا کہ چین جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بیرون ملک تعینات تمام جوہری ہتھیاروں کو اپنے ممالک میں واپس لے جائیں، اور جو ممالک "جوہری اشتراک” اور "توسیع شدہ ڈیٹرنس” کے انتظامات میں حصہ لے رہے ہیں وہ ان کی اپ گریڈ یشن یا انہیں دیگر خطوں میں نقل کرنا بند کریں اور "جوہری اشتراک” کے ذریعے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکیں۔
چین نے امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا کے درمیان جوہری آبدوز کے تعاون کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا۔چین کا ماننا ہے کہ متعلقہ تعاون میں جوہری مواد کی منتقلی شامل ہے اور چند ممالک کو کثیر جہتی میکانزم کو نظرانداز کرتے ہوئے آگے نہیں بڑھنے دینا چاہیے۔
چین نے اپنے بیان میں یہ بھی نشاندہی کی کہ حالیہ برسوں میں، جاپان نے جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر مسلسل منفی بیان بازی اور اقدامات کیے ہیں، اپنے امن پسند آئین کے "تین غیر جوہری اصولوں” پر ترمیم کے عمل کو آگے بڑھایا ہے، اپنی طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے، اور اپنے اتحادیوں کی جاپان میں جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کو بھی فروغ دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو انتہائی ہوشیار رہنا چاہیے، نگرانی اور تصدیق کو مضبوط بنانا چاہیے، اور حساس جوہری مواد کی پیداواری صلاحیت اور استعمال کے درمیان شدید عدم توازن کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کسی بھی ملک کی کوششوں کو مضبوطی سے روکنا چاہیے۔ چین نے کہا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت تمام ذمہ داریوں کے مکمل، دیانتدارانہ اور متوازن نفاذ کا حامی ہے، اور اس معاہدے کی بنیاد پر بین الاقوامی جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کو برقرار رکھنے اور اسے مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
