اسلام آباد: پاکستان کے معدنی شعبے میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر، پاک سال کارپوریشن اور چائنا نیشنل سالٹ انڈسٹری گروپ کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹجک تعاون کا تاریخی معاہدہ دستخط ہو گیا ہے۔ اس شراکت داری کا مقصد پاکستان کے راک سالٹ (کھانے کے نمک) کے وسیع ذخائر کی کان کنی، پراسیسنگ اور عالمی سطح پر فراہمی میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہے۔
یہ معاہدہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مؤثر سہولت کاری اور وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی کلیدی معاونت سے ممکن ہوا ہے۔ چینی، پاکستانی اور شمالی امریکی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے، ایس آئی ایف سی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے اور پاکستان میں کاروباری فریم ورک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
معاہدے کے تحت دونوں ممالک پاکستانی راک سالٹ کو منظم عالمی سپلائی چین کا حصہ بنانے کے لیے قریبی تعاون کریں گے۔ اس شراکت داری کا بنیادی محور ٹیکنالوجی کی منتقلی، کان کنی کے جدید طریقے، مقامی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن (مصنوعات کی قدر میں اضافہ) ہے تاکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی نمک کی رسائی کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکے۔ پاک سالٹ کارپوریشن پاکستان کا وہ پہلا اور منفرد پلیٹ فارم ہے جو امریکی اور چینی مہارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کو یکجا کر رہا ہے۔
اس بارے میں شین ژاؤجون٫ چیئرمین، چائنا نیشنل سالٹ انڈسٹری گروپ کا کہنا ہے کہ
پاکستان اور چین کی روایتی دوستی انتہائی گہری ہے۔ نمک کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، اور یہ معاہدہ باہمی ترقی کی نئی راہیں کھولے گا
احمد ندیم خان چیئرمین، پاکستان سالٹ کمپنی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ چائنا نیشنل سالٹ انڈسٹری گروپ کی جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر، پاکستان کے منفرد نمک کے وسائل کو عالمی سطح پر ترقی دینے اور انہیں بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ محمد مبارک خان سی ای او، میریکل سالٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے اس ضمں میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ پاک سالٹ کارپوریشن کے ذریعے شمالی امریکی اور چینی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا ہے۔ یہ سنگِ میل ایس آئی ایف سی کی اسٹریٹجک معاونت سے حاصل ہوا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا اور ہمارے صنعتی فریم ورک کو مضبوط بنایا ہے۔
یہ اسٹریٹجک اتحاد پاکستان کی معدنی صنعت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگا، جس سے اعلیٰ معیار کی معدنی برآمدات کے ذریعے ملکی معیشت، روزگار کے مواقع اور زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہو گا۔
