شنگھائی (روزنامہ اتحاد) : ٹوکیو ٹرائل کے آغاز کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہونے والے بین الاقوامی سمپوزیم نے دنیا بھر سے ممتاز اسکالرز، سفارتکاروں، قانونی ماہرین، پالیسی سازوں اور میڈیا نمائندگان کو شنگھائی میں یکجا کیا، جہاں تاریخی حقیقت، بین الاقوامی انصاف، اور ایشیا پیسیفک خطے میں امن کے تحفظ کے اجتماعی عزم کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا گیا۔ شنگھائی جیاو ٹونگ یونیورسٹی اور نانجنگ قتل عام کے متاثرین کے یادگاری ہال کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والا یہ سمپوزیم ٹوکیو ٹرائل کی تاریخی وراثت اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت پر غور و فکر کے لیے ایک بروقت اور اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔
اس عالمی اجتماع کے دوران مجھے افتتاحی تقریب میں شرکت اور چین، جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیا، روس، جرمنی، اسپین، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برازیل سمیت متعدد ممالک سے تعلق رکھنے والے اسکالرز اور ماہرین سے تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ سمپوزیم نے اس مضبوط علمی اور سفارتی اتفاق رائے کو نمایاں کیا کہ ٹوکیو ٹرائل دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام کے اہم ترین قانونی اور اخلاقی سنگ میلوں میں سے ایک ہے۔
افتتاحی تقریب میں چین کی وزارت خارجہ کے شعبہ معاہدات و قانون کے ڈائریکٹر جنرل مسٹر چی دہائی، جمہوریہ کوریا کے سابق نائب وزیر اعظم ڈاکٹر ہوانگ وو یا، جبکہ ملائیشیا چائنا فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے صدر اور چین میں ملائیشیا کے سابق سفیر داتو عبدالمجید احمد خان نے خصوصی ویڈیو پیغام کے ذریعے خطاب کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخ کو سچائی کے ساتھ یاد رکھنا اور عسکریت پسندی و جارحانہ جنگوں کے المیوں کو دوبارہ جنم لینے سے روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اپنے تفصیلی خطاب میں مسٹر چی دہائی نے ٹوکیو ٹرائل کو ایسا تاریخی عمل قرار دیا جہاں انصاف نے تشدد پر اور تہذیب نے بربریت پر فتح حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹرائل نے سخت قانونی کارروائی، وسیع شواہد اور تاریخی قانونی فریم ورک کے ذریعے جاپانی عسکریت پسندی کو سزا دے کر ایشیا میں جنگ کے بعد کے عالمی نظام کی بنیاد رکھی۔
مسٹر چی نے مزید کہا کہ ٹوکیو ٹرائل نے جدید بین الاقوامی فوجداری قانون کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ اس نے یہ اصول قائم کیا کہ جارحیت ایک بین الاقوامی جرم ہے اور سرکاری عہدے سے بالاتر ہو کر افراد کو جنگی جرائم پر جوابدہ ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے جاپان کی بعض دائیں بازو کی قوتوں کی جانب سے تاریخ کو مسخ کرنے، عسکریت پسندی کو فروغ دینے اور “فاتح کا انصاف” اور “بعد از وقوع قانون” جیسے بیانیوں کے ذریعے ٹرائل کی قانونی حیثیت کو کمزور کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ٹوکیو ٹرائل کی روح کا تحفظ ایشیا پیسیفک خطے میں امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
جمہوریہ کوریا کے سابق نائب وزیر اعظم ڈاکٹر ہوانگ وو یا نے ٹوکیو ٹرائل کی تاریخی اور ساختی محدودیتوں پر گہری روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ٹرائل نے بین الاقوامی فوجداری احتساب کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ جاپانی نوآبادیاتی مظالم سے متاثرہ کئی ایشیائی اقوام اور متاثرین کو مؤثر نمائندگی نہیں دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نانجنگ قتل عام اور یونٹ 731 جیسے انسانیت سوز جرائم کو مکمل عدالتی انصاف نہیں مل سکا۔
ڈاکٹر ہوانگ نے زور دیا کہ ماضی کے حل طلب زخم آج بھی ایشیا میں علاقائی کشیدگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی پر مخلصانہ غور و فکر، متاثرین کے دکھوں کا اعتراف، اور تاریخی سچائی سے وابستگی ہی حقیقی مفاہمت اور طویل المدتی علاقائی اعتماد کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ان کے خیالات نے شرکاء پر گہرا اثر چھوڑا اور سمپوزیم کے بنیادی پیغام، یعنی تاریخی یادداشت اور اخلاقی ذمہ داری کی اہمیت، کو مزید تقویت دی۔
دوسری جانب ملائیشیا چائنا فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے صدر داتو عبدالمجید احمد خان نے اپنے تحریری پیغام میں ٹوکیو ٹرائل کی وسیع انسانی اور قانونی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹرائل نے یہ اصول قائم کیا کہ جارحانہ جنگ نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی نتائج بھی رکھتی ہے اور شہریوں کے مصائب کو کبھی معمول نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امن خود بخود قائم نہیں ہوتا بلکہ اسے مکالمے، باہمی احترام، اقتصادی تعاون اور سیاسی دانشمندی کے ذریعے شعوری طور پر تعمیر کیا جاتا ہے۔
داتو عبدالمجید نے مزید کہا کہ آج کی دنیا، جو موسمیاتی تبدیلی، اقتصادی عدم استحکام، سائبر خطرات اور جغرافیائی سیاسی عدم اعتماد جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، زیادہ مضبوط کثیرالجہتی نظام اور پُرامن بقائے باہمی کی متقاضی ہے۔ انہوں نے اسکالرز اور پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ تاریخی فراموشی اور انتہاپسندانہ تاریخ نویسی دونوں کو مسترد کرتے ہوئے علمی تحقیق اور مکالمے کو فروغ دیں۔
سمپوزیم کے دوران ڈائریکٹر چینگ ژاؤچی نے برناما ٹی وی ملائیشیا کی صحافی زناریہ نور زین کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ٹوکیو ٹرائل کی موجودہ عالمی حالات میں مسلسل اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ٹرائل کو جنگ کے بعد کے عالمی نظام کی بنیادی ستونوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 80 برس گزرنے کے باوجود اس کے اسباق آج بھی انسانیت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
ڈائریکٹر چینگ نے جاپان کے بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے ٹوکیو ٹرائل کی قانونی حیثیت کو کمزور یا مسترد کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق اگرچہ جاپان ایک متنوع رائے رکھنے والا معاشرہ ہے، تاہم حالیہ برسوں میں بعض سیاسی شخصیات نے ٹرائل پر سوالات اٹھاتے ہوئے آئینی ترامیم کی حمایت کی ہے، جس پر امن کے حامی حلقے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاپان میں متعدد سول سوسائٹی گروپس اور شہری آئینی ترامیم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے عسکریت پسند رجحانات دوبارہ جنم لے سکتے ہیں۔ ڈائریکٹر چینگ نے زور دیا کہ تاریخ پہلے ہی انسانیت کو دردناک اسباق دے چکی ہے، اس لیے عالمی برادری کو ہر اس پیش رفت پر نظر رکھنی چاہیے جو علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔
جنوب مشرقی ایشیا کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر چینگ نے کہا کہ ملائیشیا سمیت متعدد ممالک نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی جارحیت کے باعث شدید مصائب برداشت کیے، تاہم ان قربانیوں کو عالمی سطح پر وہ توجہ نہیں ملتی جس کی وہ مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بہت سے متاثرین اب دنیا میں موجود نہیں اور بعض زخم کبھی مکمل طور پر مندمل نہیں ہو سکتے، مگر تاریخی یادداشت کا تحفظ انسانیت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ان کے مطابق ایسے المیوں کو یاد رکھنے کا مقصد نفرت کو فروغ دینا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو تاریخ سے سبق دینا اور مستقبل میں ایسی تباہیوں کو روکنا ہے۔ ان کے خیالات نے سمپوزیم کے اس بنیادی مقصد کی بھرپور عکاسی کی جس کا محور تاریخی سچائی، انصاف اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے امن کا فروغ تھا۔
سمپوزیم کے دوران اسکالرز اور ماہرین نے تاریخ، بین الاقوامی تعلقات اور بین الاقوامی قانون کے موضوعات پر تفصیلی مباحثے کیے۔ اس بات پر وسیع اتفاق رائے پایا گیا کہ ٹوکیو ٹرائل نے جاپانی عسکریت پسندی کے مظالم کو بے نقاب کرنے، جنگ کے بعد کے عالمی نظام کے تحفظ اور بین الاقوامی فوجداری قانون میں اہم قانونی نظائر قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
شرکاء نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ دور میں، جب عسکریت پسندی، تاریخی تحریف اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں، ٹوکیو ٹرائل کی روح پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹرائل امن کے تحفظ، تاریخی سچائی کے فروغ، اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے آج بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
شنگھائی میں منعقد ہونے والا یہ سمپوزیم محض ایک علمی سرگرمی نہیں تھا بلکہ اس بات کی طاقتور یاد دہانی بھی تھا کہ امن، انصاف اور تاریخی احتساب کو عالمی مکالمے کا مرکزی حصہ رہنا چاہیے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اسٹریٹجک مقابلہ آرائی کا سامنا کر رہی ہے، تاریخ کے اسباق کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ سمپوزیم کے مباحثوں نے اس عزم کو نمایاں کیا کہ اسکالرز، سفارتکار اور پالیسی ساز تاریخی سچائی کے تحفظ، عسکریت پسندی کے دوبارہ ابھرنے کی مخالفت، اور انسانیت کے لیے ایک پُرامن و تعمیری مستقبل کے فروغ کے لیے متحد ہیں۔
یہ تقریب اس بات کا واضح اظہار تھی کہ چین دوسری جنگ عظیم کی یادداشت کے تحفظ اور بین الاقوامی انصاف و امن پر مکالمے کے فروغ کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ ساتھ ہی اس نے اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ علمی اور عوامی سطح پر روابط بین الاقوامی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور جدید عالمی نظام کی بنیاد بننے والے اصولوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
رپورٹ:
معیز فاروق
ایگزیکٹو ایڈیٹر، پاکستان اکنامک نیٹ ورک و ڈیلی اتحاد میڈیا گروپ
