روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں جاری بین الاقوامی اقتصادی فورم کے موقع پر صدر روس ولادی میر پوتین نے دنیا کے بڑے بڑے خبر رساں اداروں کے سربراہوں کے ساتھ ملاقات کی اور ان کے سوالات کا جواب دیا۔
اس ملاقات میں روس کی خارجہ اور داخلہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اہم بین الاقوامی امور کا بھی ذکر کیا گیا۔
صدر پوتین نے بالخصوص چین کے ساتھ روس کے تعلقات کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک اس لیے نہیں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں کہ انہیں دیگر ملکوں کا مقابلہ کرنا ہے بلکہ اس لیے کہ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
فطری طور پر صدر روس سے یوکرین سے متعلق سوالات کئے گئے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یوکرینی افواج کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ افرادی قوت میں شدید کمی سے وابستہ ہے جبکہ روسی فوج آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ پوتین نے اعادہ کیا کہ روس کے خصوصی فوجی آپریشن کا ایک اہم مقصد یوکرین سے نازی نظریات کو دور کرنا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ یوکرین میں حال ہی میں ایک ایسے شخص کی باقیات کی دوبارہ تدفین ہوئی ہے جو دوسری عالمی جنگ کے دوران جرمن نازیوں کا معاون تھا اور جس کے ہاتھ سینکڑوں بے گناہ افراد کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ آج یوکرین کے حکام ایسے ہی لوگوں کو اپنی ریاست کے بانیوں اور پہلے رہنماؤں کے طور پر عزت دیتے ہیں۔
پوتین نے بیان دیا کہ روس کی فوج اور عوام فتح حاصل کرنے کا مسمم عزم رکھتے ہیں۔
ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ آیا امن معاہدہ کرنے کا وقت آ چکا ہے تو صدر پوتین نے کہا کہ یوکرین کے حکران حلقے معاہدہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں جبکہ روس اس تصادم کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔
مسئلہ ایران سے متعلق سوال کے جواب میں میں صدر پوتین نے کہا کہ روس اس بحران کو حل کئے جانے میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ وہ ایران کے ساتھ پراعتماد تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔ بالخصوص روس ایران سے افزودہ یورینیم لے جا سکتا ہے تاکہ جوہری مسئلہ کا تصفیہ ڈھونڈنے میں مدد کرے۔
نیٹو کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر پوتین نے کہا کہ مغرب میں نیٹو کے رکن ممالک پر حملہ کرنے کے روس کے منصوبہ کے بارے میں جو باتیں کی جا رہی ہیں وہ نہ صرف بکواس ہیں بلکہ ایک سازش بھی جس کا مقصد یہ ہے کہ ان ملکوں کے عوام کو دفاعی اخراجات میں اضافہ کی حمایت کرنے پر قائل کرنا ہے۔
صدر پوتین نے زور دے کر کہا کہ روس ان تمام ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے تیار ہے جو روس کے ساتھ اشتراک عمل کرنا چاہے ہیں۔
