عزیز دوستو، میں آپ سب کو یوکرین تنازعے کے موضوع پر اس ہنگامی بریفنگ میں خوش آمدید کہتا ہوں۔
ہماری آج کی ملاقات کی وجہ وہ سانحہ ہے جو رواں سال 22 مئی کی رات کو لوگانسک عوامی جمہوریہ کے شمال مشرق میں واقع شہر سٹاروبیلسک میں پیش آیا۔ اس واقعے میں یوکرین کی مسلح افواج نے بغیر پائلٹ کے فضائی آلات یعنی ڈرونز استعمال کرتے ہوئے لوگانسک تدریسی یونورسٹی سے وابستہ مقامی پیشہ ورانہ کالج کے طلبہ کے رہائشی ہاسٹل اور تعلیمی عمارت پر ایک نہایت بے رحمانہ گولہ باری کی۔
حملے کے وقت ان عمارتوں میں 86 بچے اور نوعمر نوجوان موجود تھے۔ 21 طلبہ جاں بحق ہوئے، جن میں 18 نوجوان لڑکیاں اور 3 نوجوان لڑکے شامل تھے۔ ان تمام کی عمریں 23 سال سے کم تھیں۔ مزید 60 سے زائد افراد مختلف نوعیت اور شدت کے زخموں کا شکار ہوئے۔ یہ نوجوان خصوصی فوجی کارروائی کے آغاز کے بعد سٹاروبیلسک تدریسی یونورسٹی کے پہلے گریڈویٹس ہونے والے طلبہ کا حصہ بننے والے تھے۔
یوکرین کی مسلح افواج باقاعدگی سے روس کی شہری آبادی اور شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف بے رحمانہ اور خونریز حملے کرتی رہی ہیں۔ تاہم، سٹاروبیلسک پر حملے نے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا اور ایک ایسی "ریڈ لائن” عبور کر لی ہے جسے ناقابلِ قبول سمجھا جاتا تھا۔ بچوں اور نوعمر نوجوانوں کے خلاف مجرمانہ کییف حکومت کی جانب سے کیا ہوا یہ دہشت گردانہ حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، جن میں 1949 کے جنیوا کنونشنز اور ان سے متعلق اضافی پروٹوکولز شامل ہیں، جو مسلح تنازعات کے دوران شہری آبادی کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں، نیز 1989 کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہ جرم نہ صرف عالمی برادری کی جانب سے انتہائی سخت مذمت کا مستحق ہے بلکہ یہ ایک فیصلہ کن موڑ بھی ثابت ہوا ہے، جس کے نتیجے میں یوکرین میں روس کی مسلح کارروائیاں ایک نئے مرحلے اور نئی نوعیت میں داخل ہو رہی ہیں۔
رواں سال 25 مئی کو روس کی وزارتِ خارجہ نے ایک متعلقہ بیان جاری کیا، جس کے مطابق "روسی مسلح افواج نے کییف میں یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس کے ادارہ جات پر منظم اور مرحلہ وار حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جن میں ڈرونز کے ڈیزائن، تیاری، پروگرامنگ اور استعمال کی تیاری سے متعلق مخصوص مقامات شامل ہیں۔ یہ وہ ڈرونز ہیں جنہیں کییف حکومت نیٹو کے ماہرین کی معاونت سے استعمال کرتی ہے، جو ڈرونز کے عناصر کی فراہمی، انٹیلیجنس معلومات کی فراہمی اور اہداف کی نشاندہی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ حملے نہ صرف فیصلہ سازی کے مراکز بلکہ کمانڈ مراکز پر بھی کیے جائیں گے۔”
رواں سال 24 مئی کی رات کو روسی فوج نے یوکرین کے خلاف "جوابی کارروائی کے حملوں” کا پہلا سلسلہ انجام دیا ہے، جس میں "اوریشنک” بیلسٹک میزائل، "اسکندر” ایروبیلسٹک میزائل، "کنژال” ہائپرسونک میزائل اور "زرکون” کروز میزائل بھی استعمال کیے گئے۔ یوکرین کی مسلح افواج کی کمانڈ نے اعتراف کیا کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام کییف پر ہونے والے ان حملوں کو روکنے میں ناکام رہا۔ وہ "کنژال” اور "زرکون” میزائلوں میں سے ایک بھی مار گرانے میں کامیاب نہ ہو سکا، جبکہ 30 "اسکندر” میزائلوں میں سے صرف 11 کو ہی روک سکا۔
رواں سال 2 جون کو روسی مسلح افواج نے اسی نوعیت کا ایک اور وسیع پیمانے پر حملہ اعلیٰ درستگی والے ہتھیاروں کے ذریعے کیا، جس کا ہدف یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس، ایندھن کے ذخائر اور فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق تنصیبات تھیں۔ یہ حملے کییف، زاپوروژئے، خارکوف اور دنیپروپیٹروفسک میں کیے گئے۔ اس نوعیت کے حملے آئندہ بھی باقاعدہ بنیادوں پر جاری رکھے جائیں گے۔
مغربی ممالک نے سٹاروبیلسک میں دہشت گردانہ حملے کو تقریباً نظر انداز کر دیا، تاہم "اوریشنک” میزائل کے استعمال کے ساتھ کیے گئے "جوابی حملے” کے بعد انہوں نے فوری طور پر ماسکو کی مذمت کی۔ یورپی رہنماؤں نے ایک بار پھر کییف حکومت کو فوجی امداد فراہم کرتے رہنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا، جو اس کی دہشت گردانہ جرائم میں شرکت کے مترادف ہے۔ ایسا طرزِ عمل صرف تنازعے میں مزید شدت پیدا کرتا ہے اور مؤثر امن مذاکرات کے امکانات کو انتہائی غیر واضح بنا دیتا ہے۔
اس واقعے کے بارے میں بین الاقوامی تنظیمات کا رویہ حیران کن ہے، خصوصاً یونیسکو کے سیکریٹریٹ کا سٹاروبیلسک پر حملے کے حوالے سے انتہائی مختصر اور سرد ردِعمل، جس نے صرف ایک چھوٹا بیان جاری کرتے ہوئے شہری ہلاکتوں سے متعلق اطلاعات کو ناقابلِ تصدیق قرار دیا۔ دوسری جانب، روسی مسلح افواج کے جوابی حملوں کے بعد اسی تنظیم نے فوری طور پر کییف کو "نقصانات کے جائزے اور ہنگامی اقدامات کے تعین میں معاونت” کی پیشکش کر دی، جو "دوہرے معیارات” کی ایک واضح اور سنگین مثال ثابت ہوا ہے۔
اس سانحے کے فوراً بعد بعض مغربی حلقوں کی جانب سے نامناسب ردِعمل اور گھنونے بیانات کے پیشِ نظر، روسی حکام نے جھوٹی خبروں اور افواہوں کو بے نقاب کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے غیر ملکی صحافیوں کے لیے سٹاروبیلسک کا دورہ منظم کیا، جہاں پاکستان سمیت 20 ممالک سے تعلق رکھنے والے 51 غیر ملکی میڈیا نمائندگان، دہشت گردانہ حملے کے مقام پر پہنچنے کے خطرات کے باوجود، اور خود اس سانحے کے حیران انگیز اثرات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان صحافیوں میں صرف روس کے دوست ممالک ہی نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ کے نمائندگان بھی شامل تھے۔ تاہم بعض روسوفوبک عناصر نے اس سانحے کے نتائج کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی؛ BBC کی انتظامیہ نے اپنے نامہ نگاروں کو وہاں بھیجنے سے انکار کر دیا، جبکہ جاپانی حکام نے اپنے صحافیوں کو اس دہشت گردانہ حملے کی رپورٹنگ کرنے سے منع کر دیا۔ مزید برآں، یوکرینی ذرائع ابلاغ نے کھلے عام اس سانحے کے متاثرین کا مذاق اڑایا۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سٹاروبیلسک کے کالج پر حملے کے بعد اسی نوعیت کی مزید دہشت گردانہ حملے بھی سامنے آئے ہیں۔ رواں سال 27 مئی کی رات اور پھر 28 سے 31 مئی کے دوران یوکرین کی مسلح افواج نے اینرگودار شہر کے رہائشی علاقوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر گولہ باری کی۔ اس شہر میں بنیادی طور پر زاپوروژئے جوہری بجلی گھر کے ماہرین اور ملازمین رہائش پذیر ہیں۔ حملوں کے دوران بچوں کے کنڈرگارٹن اور زچگی ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
رواں سال 31 مئی کی رات کو یوکرین کی مسلح افواج نے ڈرونز کے ذریعے جان بوجھ کر زاپوروژئے جوہری بجلی گھر کے ایک توانائی یونٹ پر دو مرتبہ حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں مشین ہال کی دھاتی بیرونی دیوار میں تقریباً 30 سینٹی میٹر قطر کا سوراخ بن گیا، جو ری ایکٹر سے صرف 10 میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی ان تنصیبات کو کوئی تباہ کن نقصان پہنچا۔
ہمیں یقین ہے کہ کییف اور اس کے امریکی و یورپی سرپرست بخوبی سمجھتے ہیں کہ یورپ کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کی جوہری سلامتی کے خلاف ایسی اشتعال انگیز کارروائیاں پوری دنیا کے لیے کس قدر سنگین ممکنہ تباہی کا باعث بن سکتی ہیں۔ ہم زیلنسکی حکومت کے معاونین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس حقیقت پر غور کریں، کیونکہ یوکرینی حکام کی ایسی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کے نتائج اور نقصانات سے وہ خود بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی قیادت کییف کے اقدامات کا منصفانہ جائزہ لے گی۔ اپنی جانب سے ہم زاپوروژئے جوہری بجلی گھر کے محفوظ آپریشن کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔
رواں سال 31 مئی کو خرسون کے علاقے کے گینیچیسک نامی شہر میں ایک رہائشی علاقے پر ڈرون حملے کے نتیجے میں دل کے قریب شیل کے ٹکڑے لگنے سے ایک 5 سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا۔ 3 جون کو دونیتسک عوامی جمہوریہ کے یناکیئیو نامی شہر کے مرکزی علاقے میں "ماسکو–سمفیروپول” مسافر بس کو گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے میں سات افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ایک بچے سمیت 11 افراد مختلف نوعیت اور شدت کے زخموں کا شکار ہو گئے۔
یوکرینی حکومت کی ایک اور مجرمانہ مہم جوئی سینٹ پیٹرزبرگ بین الاقوامی اقتصادی فورم کی خراب کاری کرنے کی کوشش تھی، جس میں روسی کاروباری حلقوں کے نمائندگان، اعلیٰ غیر ملکی سرکاری عہدیداران اور 100 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والی عوامی و سماجی شخصیات نے شرکت کے لیے آمد کی تھی۔
3 جون کو، جو فورم کے افتتاح کا دن تھا، یوکرینی مسلح افواج کے ڈرون حملوں کا ہدف سینٹ پیٹرزبرگ کے کرونشتادت، کیروفسکی اور کراسنوسیلسکی اضلاع میں واقع بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات تھیں، جو بڑے رہائشی علاقوں کے بالکل قریب واقع ہیں۔ 6 جون کی صبح کو شہر پر کیے گئے بڑے پیمانے کے ڈرون حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ روس ان حملوں کو مسلسل کامیابی سے پسپا کر رہا ہے، اور کییف حکومت کی اس نوعیت کی تمام تخریبی کوششیں پہلے ہی سے ناکامی کے لیے مقدر ہیں۔
اتنے میں سینٹ پیٹرزبرگ بین الاقوامی اقتصادی فورم کے نتائج اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ روس کا مؤقف عالمی جنوب کے ممالک میں وسیع بین الاقوامی حمایت حاصل کر رہا ہے اور مغربی برادری کے غیر جانبدار ماہرین کے درمیان بھی سمجھ بوجھ اور قبولیت پیدا کر رہا ہے۔
کییف کی فاشسٹ حکومت کے ان جرائم کی فہرست بہت طویل ہے، اور یہ کارروائیاں صرف روسی شہریوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ اپنے ہم وطنوں کے خلاف بھی کی جا رہی ہیں۔ 28 مئی کو روس کی وزارتِ خارجہ نے یوکرین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک اور رپورٹ جاری کی۔ اس میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بنیادی انسانی حقوق کی انتہائی سنگین اور منظم خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، جو یوکرین میں اس شعبے کی صورتحال کے مکمل زوال کو ظاہر کرتی ہیں۔ ہم آپ سے اس رپورٹ سے ہماری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آگاہ ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔
روس اب بھی اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ یوکرین میں شہری آبادی اور شہری تنصیبات کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچایا جائے۔ اسی سلسلے میں، میں روس کی وزارتِ خارجہ کے 25 مئی کے بیان کے اس حصے سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جس میں غیر ملکی شہریوں، بشمول سفارتی مشنز اور بین الاقوامی تنظیمات کے عملہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جلد از جلد کییف کو چھوڑ دیں۔ ہم نے اس متعلقہ معلومات کو سفارتی ذرائع کے ذریعے پاکستانی فریق تک بھی پہنچا دیا ہے۔ ہم اسلام پاکستان کے تعمیری اپروچ کو سراہتے ہیں، جو ہمارے انتباہات کو پوری سنجیدگی سے لیتا ہے اور یوکرین کی صورتحال پر ایک متوازن اور غیر جانبدار مؤقف اختیار کیا ہے۔
آپ کی توجہ کا شکریہ۔ میں آپ کو سٹاروبیلسک میں دہشت گردانہ حملے کے متاثرین کی یاد میں نمائش دیکھنے کی دعوت دیتا ہوں۔
